سنن نسائي
كتاب الجنائز— کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ : الْبَعْثِ باب: موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2088
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ جُمَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الطُّفَيْلِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : إِنَّ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , حَدَّثَنِي : " أَنَّ النَّاسَ يُحْشَرُونَ ثَلَاثَةَ أَفْوَاجٍ : فَوْجٌ رَاكِبِينَ طَاعِمِينَ كَاسِينَ ، وَفَوْجٌ تَسْحَبُهُمُ الْمَلَائِكَةُ عَلَى وُجُوهِهِمْ وَتَحْشُرُهُمُ النَّارُ ، وَفَوْجٌ يَمْشُونَ وَيَسْعَوْنَ يُلْقِي اللَّهُ الْآفَةَ عَلَى الظَّهْرِ فَلَا يَبْقَى حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَتَكُونُ لَهُ الْحَدِيقَةُ يُعْطِيهَا بِذَاتِ الْقَتَبِ لَا يَقْدِرُ عَلَيْهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے بیان کیا کہ لوگ ( قیامت کے دن ) تین گروہ میں جمع کیے جائیں گے : ایک گروپ سوار ہو گا ، کھاتے ( اور ) پہنتے اٹھے گا ، اور ایک گروہ کو فرشتے اوندھے منہ گھسیٹیں گے ، اور انہیں آگ گھیر لے گی ، اور ایک گروہ پیدل چلے گا ( بلکہ ) دوڑے گا ۔ اللہ تعالیٰ سواریوں پر آفت نازل کر دے گا ، چنانچہ کوئی سواری باقی نہ رہے گی ، یہاں تک کہ ایک شخص کے پاس باغ ہو گا جسے وہ ایک پالان والے اونٹ کے بدلے میں دیدے گا جس پر وہ قادر نہ ہو سکے گا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا بیان۔`
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے بیان کیا کہ لوگ (قیامت کے دن) تین گروہ میں جمع کیے جائیں گے: ایک گروپ سوار ہو گا، کھاتے (اور) پہنتے اٹھے گا، اور ایک گروہ کو فرشتے اوندھے منہ گھسیٹیں گے، اور انہیں آگ گھیر لے گی، اور ایک گروہ پیدل چلے گا (بلکہ) دوڑے گا۔ اللہ تعالیٰ سواریوں پر آفت نازل کر دے گا، چنانچہ کوئی سواری باقی نہ رہے گی، یہاں تک کہ ایک شخص کے پاس باغ ہو گا جسے وہ ایک پالان والے اونٹ کے بدلے می [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2088]
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے بیان کیا کہ لوگ (قیامت کے دن) تین گروہ میں جمع کیے جائیں گے: ایک گروپ سوار ہو گا، کھاتے (اور) پہنتے اٹھے گا، اور ایک گروہ کو فرشتے اوندھے منہ گھسیٹیں گے، اور انہیں آگ گھیر لے گی، اور ایک گروہ پیدل چلے گا (بلکہ) دوڑے گا۔ اللہ تعالیٰ سواریوں پر آفت نازل کر دے گا، چنانچہ کوئی سواری باقی نہ رہے گی، یہاں تک کہ ایک شخص کے پاس باغ ہو گا جسے وہ ایک پالان والے اونٹ کے بدلے می [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2088]
اردو حاشہ: (1) "صادق و مصدوق" صادق سے مراد خود سچے اور مصدوق سے مراد جن کو (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) سچ بتایا گیا۔ گویا ان کی بات میں جھوٹ کا امکان تک نہیں کیونکہ نہ وہ خود جھوٹ بولتے ہیں، نہ وہ وحی جھوٹی ہے جو ان پر اتری، تو جھوٹ کدھر سے آئے گا۔
(2) یہ حشر قیامت سے پہلے ہوگا جیسا کہ اوپر گزرا۔
(2) یہ حشر قیامت سے پہلے ہوگا جیسا کہ اوپر گزرا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2088 سے ماخوذ ہے۔