حدیث نمبر: 198
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، قال : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قال : سَمِعْتُ عَطَاءً الْخُرَاسَانِيَّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ ، قالت : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَرْأَةِ تَحْتَلِمُ فِي مَنَامِهَا ، فَقَالَ : " إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ فَلْتَغْتَسِلْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس عورت کے متعلق پوچھا جسے خواب میں احتلام ہو جائے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب وہ منی دیکھے تو غسل کرے “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه / حدیث: 198
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/الطھارة 107 (602) مطولاً، (تحفة الأشراف: 15827)، مسند احمد 6/409، سنن الدارمی/الطھارة 76/789 (صحیح) (متابعات و شواہد سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ”عطاء خراسانی‘‘ ضعیف ہیں)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 602

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 602 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´مرد کی طرح عورت کو خواب میں احتلام ہو تو کیا حکم ہے؟`
خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عورت کے اپنے خواب میں اس چیز کے دیکھنے سے متعلق سوال کیا جو مرد دیکھتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک انزال نہ ہو اس پر غسل نہیں، جیسے مرد پر بغیر انزال کے غسل نہیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 602]
اردو حاشہ: (1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے اور مزید لکھا ہے کہ سابقہ روایت (106)
اس سے کفایت کرتی ہے جو کہ حسن ہے، لہٰذا معلوم ہوا کہ یہ روایت قابل عمل اور قابل حجت ہے، علاوہ ازیں دیگر محققین نے اس روایت کو شواہد کی بناء پر حسن کہا ہے۔

(2)
اس مسئلے میں مردوعورت دونوں کا ایک ہی حکم ہے، یعنی اگر جسم اور کپڑے صاف ہوں تو خواہ کسی طرح کا خواب دیکھا ہو، غسل کرنے کی ضرورت نہیں۔

(3)
بچے کا ماں سے یا باپ سے مشابہ ہونے کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ شکل وصورت میں ماں سے یا باپ سے مشابہ ہوتا ہے اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہےکہ اولاد کے مذکر یا مؤنث ہونے کا تعلق مذکورہ بالا معاملے سے ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 602 سے ماخوذ ہے۔