مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 1844
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا حُضِرَتْ بِنْتٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَغِيرَةٌ , فَأَخَذَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَمَّهَا إِلَى صَدْرِهِ ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهَا فَقَضَتْ وَهِيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَكَتْ أُمُّ أَيْمَنَ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أُمَّ أَيْمَنَ أَتَبْكِينَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَكِ " ، فَقَالَتْ : مَا لِي لَا أَبْكِي وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْكِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَسْتُ أَبْكِي وَلَكِنَّهَا رَحْمَةٌ " ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُؤْمِنُ بِخَيْرٍ عَلَى كُلِّ حَالٍ تُنْزَعُ نَفْسُهُ مِنْ بَيْنِ جَنْبَيْهِ وَهُوَ يَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک چھوٹی بچی کے مرنے کا وقت آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ( اپنی گود میں ) لے کر اپنے سینے سے چمٹا لیا ، پھر اس پر اپنا ہاتھ رکھا ، تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہی مر گئی ، ام ایمن رضی اللہ عنہا رونے لگیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” ام ایمن ! تم رو رہی ہو جبکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے پاس موجود ہیں ؟ “ تو انہوں نے کہا : میں کیوں نہ روؤں جبکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ( خود ) رو رہے ہیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں رو نہیں رہا ہوں ، البتہ یہ اللہ کی رحمت ہے “ ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مومن ہر حال میں اچھا ہے ، اس کی دونوں پسلیوں کے بیچ سے اس کی جان نکالی جاتی ہے ، اور وہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتا رہتا ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 1844
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´میت پر رونے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک چھوٹی بچی کے مرنے کا وقت آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے (اپنی گود میں) لے کر اپنے سینے سے چمٹا لیا، پھر اس پر اپنا ہاتھ رکھا، تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہی مر گئی، ام ایمن رضی اللہ عنہا رونے لگیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ام ایمن! تم رو رہی ہو جبکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے پاس موجود ہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں کیوں نہ روؤں جبکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم (خود) رو رہے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں رو نہیں رہا ہوں، البتہ یہ اللہ کی رحمت ہے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن ہر حال میں اچھا ہے، اس کی دونوں پسلیوں کے بیچ سے اس کی جان نکالی جاتی ہے، اور وہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتا رہتا ہے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1844]
1844۔ اردو حاشیہ: دراصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف آنسوؤں سے رو رہے تھے اور حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا (آپ کی پرورش کنندہ) آواز کے ساتھ رو رہی تھیں، اس لیے آپ نے انہیں روکا۔ باقی رہا آنسوؤں سے رونا تو یہ تو صدمے کے موقع پر فطری امر ہے۔ انسان کو اتنا کٹھور دل نہیں ہونا چاہیے کہ صدمات خصوصاً موت سے بھی متاثر نہ ہو۔ آنسوؤں سے رونا اس رحمت کا نتیجہ ے جواللہ تعالیٰ نے مخلوقات میں رکھی ہے۔ اس سے انکار فطرت انسانیہ کا انکار ہے، پھر اس میں شکایت کا پہلو بھی ہے اور مومن رب العالمین کی شکایت کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ وہ تو مرتے ہوئے بھی رب العالمین کی تعریف کرتا ہے۔ اللھم اجعلنا من المؤمنین حقا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1844 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔