حدیث نمبر: 1029
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، قال : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اعْتَدِلُوا فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ وَلَا يَبْسُطْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ كَالْكَلْبِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رکوع اور سجدے میں سیدھے رہو ۱؎ اور تم میں سے کوئی بھی اپنے دونوں بازو کتے کی طرح نہ بچھائے “ ۔

وضاحت:
۱؎: رکوع میں (اعتدال) سیدھا رہنے کا مطلب یہ ہے کہ پیٹھ کو سیدھا رکھے، اور سر کو اس کے برابر رکھے، نہ اوپر نہ نیچے، اور دونوں ہاتھ سیدھے کر کے گھٹنوں پر رکھے، اور سجدہ میں اعتدال یہ ہے کہ کہنیوں کو زمین سے اور پیٹ کو ران سے جدا رکھے، کتے کی طرح بازو بچھانے کا مطلب دونوں کہنیوں کو دونوں ہتھیلیوں کے ساتھ زمین پر رکھنا ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / باب سجود القرآن / حدیث: 1029
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´رکوع میں اعتدال کا بیان۔`
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رکوع اور سجدے میں سیدھے رہو ۱؎ اور تم میں سے کوئی بھی اپنے دونوں بازو کتے کی طرح نہ بچھائے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1029]
1029۔ اردو حاشیہ: ➊ افراط و تفریط کسی کام میں بھی اچھی نہیں بلکہ اعتدال اور میانہ روی ہی درست ہے۔ نماز میں بھی اعتدال ضروری ہے۔ رکوع میں اعتدال یہ ہے کہ سرکو پشت سے اونچا کرے، نہ نیچا۔ بازوؤں اور ٹانگوں کو بالکل سیدھا کس کر رکھے۔ ہاتھوں کو گھٹنوں پر پکڑنے کے انداز میں رکھے اور سجدے میں اعتدال یہ ہے کہ کھلا سجدہ کرے۔ بازوؤں کو نہ تو بالکل سکیڑ کر پہلوؤں سے لگائے اور نہ زمین پر رکھے اور نہ رانوں پر۔ پیٹ کو بھی رانوں سے اٹھا کر رکھے۔ بازو مناسب حد تک باہر کو نکلے ہوئے ہوں۔ اگر صف کے اندر ہو تو گنجائش کے مطابق ہی بازو کھولے تاکہ ساتھیوں کو تکلیف نہ ہو۔ ہتھیلیوں کو سیدھا قبلہ رخ زمین پر رکھے۔
➋ کتے کی طرح بازو پھیلانے کا مطلب یہ ہے کہ ہتھیلیوں کے ساتھ ساتھ کہنیوں کو بھی زمین پر رکھ دے۔ یہ منع ہے۔ نماز کے دوران میں کسی بھی جانور کی مشابہت بہت بری بات ہے، مثلاً: اونٹ کی طرح سجدے کو جانا یا اٹھنا۔ دو سجدوں کے درمیان کتے کی طرح بیٹھنا کہ پاؤں مقعد اور ہاتھ زمین پر رکھے ہوں اور گھٹنے کھڑے ہوں، یہ سب ممنوع ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1029 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 532 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
532. حضرت انس ؓ ہی سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: ’’سجدہ اچھی طرح اطمینان سے کرو اور تم میں سے کوئی بھی اپنے بازوؤں کو کتے کی طرح نہ بچھائے۔ اگر اسے تھوکنے کی ضرورت ہو تو اپنے آگے اور دائیں جانب نہ تھوکے کیونکہ وہ اپنے پروردگار سے مناجات کر رہا ہوتا ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:532]
حدیث حاشیہ:
سجدے کی حالت میں انسان اپنے رب کے انتہائی قریب ہوتا ہے، اس لیے نہایت عجز و انکسار کے ساتھ اپنی ہتھیلیوں کو زمین پر ٹکا دیا جائے، نیز اپنی کہنیوں کو زمین سے اوپر اٹھائے رکھے اور انھیں اپنے پیٹ سے بھی دور رکھے۔
اس طرح نہ صرف عجزوانکسار کا اظہار ہوگا بلکہ انسان سستی اور کاہلی سے بھی محفوظ رہے گا۔
(عمدة القاري: 26/4)
نمازی کو بحالت نماز سب سے اچھی حالت وہیئت میں ہونا چاہیے۔
یہی وجہ ہے کہ'' اِقعاء الكلب'' ’’کتے کی طرح بیٹھنا‘‘، ''افتراش السبع'' ’’درندوں کی طرح پاؤں پسار کر بیٹھنا‘‘، ''بروك البعير'' اونٹ کی طرح بیٹھنا ''نقرة الغراب'' ’’کوے کی طرح ٹھونگیں مارنا‘‘ وغیرہ تمام امور سے منع کیا گیا ہے۔
الغرض نماز میں ہر لحاظ سے سکون و اطمینان، شائستگی و سنجیدگی، خشوع خضوع، بہترین لباس اور حسن ہیئت وغیرہ مطلوب ہیں۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 532 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 822 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
822. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’سجدے میں اعتدال کرو اور تم میں سے کوئی اپنی کلائیاں اس طرح نہ پھیلائے جس طرح کتا بچھاتا ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:822]
حدیث حاشیہ: کیونکہ اس طرح بازو بچھا دینا سستی اور کاہلی کی نشانی ہے۔
کتے کے ساتھ تشبیہ اوربھی مذمت ہے۔
اس کا پورا لحاظ رکھنا چاہیے۔
امام قسطلانی ؒ نے کہا کہ اگرکوئی ایسا کرے تو نماز مکروہ تنزیہی ہوگی۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 822 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 822 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
822. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’سجدے میں اعتدال کرو اور تم میں سے کوئی اپنی کلائیاں اس طرح نہ پھیلائے جس طرح کتا بچھاتا ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:822]
حدیث حاشیہ:
(1)
حدیث میں ہے کہ سجدہ کرتے وقت نمازی کے ہاتھ بھی سجدہ کرتے ہیں اور ان کے سجدے کی یہی صورت ہے کہ وہ آگے سے جھکے ہوئے اور پیچھے سے اٹھے ہوئے ہوں لیکن افتراش کی صورت میں سجدے کی حالت نہیں ہو گی، نیز رسول اللہ ﷺ نے نماز میں بری ہئیت اور حیوانات سے تشبیہ کو ناپسند کیا ہے اور کلائیاں زمین پر بچھانے سے کتے کی مشابہت ہوتی ہے، اس لیے آپ نے اس سے منع فرمایا ہے۔
(2)
حافظ ابن حجر ؒ فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں حکم امتناعی کے ساتھ اس کی علامت بھی بیان کر دی ہے کہ گھٹیا اور ذلیل چیزوں سے مشابہت ترک کرنا ہو گی کیونکہ ایسا کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ نمازی اپنی نماز میں خالص توجہ نہیں دیتا اور اس کی پروا نہیں کرتا۔
(فتح الباري: 390/2)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 822 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 822 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
سجدے میں کتے کی طرح زمین پر ہاتھ بچھانا
حدیث میں آیا ہے کہ سجدے میں کتے کی طرح زمین پر ہاتھ نہیں بچھانے چاہئیں۔ دیکھئے: [صحيح بخاري 822]

اور کسی صحیح حدیث میں یہ بالکل نہیں آیا کہ عورتیں سجدوں میں زمین پر ہاتھ بچھائیں۔

ایک روایت میں آیا ہے کہ ’’جب تم سجدہ کرو تو اپنے جسم کا کچھ حصہ زمین سے ملا لیا کرو کیونکہ عورت کا حکم سجدے میں مرد جیسا نہیں ہے۔ [مراسيل ابي داود: 8]

یہ روایت مرسل ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔
مرسل کے بارے میں امام مسلم رحمہ اللہ نے فرمایا: ہمارے نزدیک مرسل روایات حجت نہیں ہیں۔ [مقدمه صحيح مسلم ص20 ملخصا]

طحاوی حنفی کے ایک کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ امام ابوحنیفہ منقطع (مرسل) کو حجت نہیں سمجھتے تھے۔ دیکھئے: [شرح معاني الآثار ج2 ص164، باب الرجل يسلم فى دارالحرب وعنده اكثر من اربع نسوة، طبع ايچ ايم سعيدد كمپني كراچي]

یاد رہے کہ امام ابوحنیفہ سے باسند صحیح یہ قول ثابت نہیں کہ مرسل حجت ہے۔

دیو بندی حضرات بذاتِ خود بہت سی مرسل روایات کے منکر ہیں۔ مثلاًً: طاؤس تابعی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں سینے پر ہاتھ باندھتے تھے۔ [المراسيل لابي داود: 34]

اس کی سند طاؤس تک حسن لذاتہ ہے۔ سلیمان بن موسیٰ کو جمہور نے ثقہ کہا:۔

دیکھئے سرفراز خان صفدر کی خزائن السنن [ج2 ص89] اور باقی راویوں پر بھی جرح مردود ہے۔

ظہور احمد دیو بندی نے ضعیف (مرسل) روایت کی تائید میں دو مردود روایتیں پیش کی ہیں: اول: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب روایت بحوالہ السنن الکبریٰ للبیہقی [223/2]

اس کا راوی ابومطیع الحکم بن عبداللہ البلخی سخت مجروح تھا اور اسی صفحے پر امام بیہقی نے اس پر جرح کر رکھی ہے۔ نیز دیکھئے: [لسان الميزان ج2 ص334۔ 336]

اس کے دوسرے راوی محمد بن القاسم البلخی کا (روایت میں) ذکر حلال نہیں۔ دیکھئے: [لسان الميزان 347/5]

تیسرا راوی عبید بن محمد السرخسی نامعلوم ہے۔
خلاصہ یہ کہ یہ سند موضوع ہے۔

دوم: سیدنا ابوسعید الخذری رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب روایت بحوالہ السنن الکبریٰ [222/2]

اس کا راوی عطاء بن عجلان متروک ہے، بلکہ ابن معین اور فلاس وغیرہما نے اسے جھوٹا قرار دیا ہے۔ دیکھئے: [تقريب التهذيب 4594]

لہٰذا یہ سند بھی موضوع ہے اور خود امام بیہقی نے بھی اس پر جرح کر رکھی ہے۔

۔۔۔ اصل مضمون دیکھیں۔۔۔

فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام) ج2 ص77
درج بالا اقتباس فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)، حدیث/صفحہ نمبر: 77 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 822 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
سجدے کا بیان

پھر آپ تکبیر (اللہ اکبر) کہہ کر (یا کہتے ہوئے) سجدے کے لئے جھکتے۔

دلیل: «ثم يقول الله أكبر حين يهوي ساجدًا .» [بخاري: 803، مسلم: 329]

آپ نے فرمایا: «إذاسجد أحدكم فلا يبرك كما يبرك البعير وليضع يديه قبل ركبتيه .» [ابوداود: 840]

’’جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اونٹ کی طرح نہ بیٹھے (بلکہ) اپنے دونوں ہاتھ اپنے گھٹنوں سے پہلے (زمین پر) رکھے اور آپ کا عمل بھی اسی کے مطابق تھا۔

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے گھٹنوں سے پہلے اپنے دونوں ہاتھ (زمین پر) رکھتے تھے اور فرماتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔

جس روایت میں آیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں جاتے وقت پہلے گھٹنے اور پھر ہاتھ رکھتے تھے۔ [ابوداود: 838]
شریک بن عبداللہ القاضی کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے اس کے تمام شواہد بھی ضعیف ہیں۔

* سجدہ سات اعضاء یعنی دونوں گھٹنوں دونوں ہاتھوں اور چہرے کے اعتماد سے کرنا چاہئے۔

دلیل: آپ نے فرمایا: «أمرت أن أسجد على سبعة أعظم على الجبهة وأشار بيده على أنفه، واليدين والركبتين وأطراف القدمين .» [صحيح بخاري: 812، صحيح مسلم: 490]

’’مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے (ان سب کی طرف) اشارہ کیا کہ پیشانی، ناک، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں قدموں کے پنجے۔

* آپ فرماتے تھے: «إذاسجد العبد سجد معه سبعة أطراف: وجهه وكفاه وركبتاه وقدماه .» [صحيح مسلم: 491]

’’جب بندہ سجدہ کرتا ہے تو سات اطراف (اعضاء) اس کے ساتھ سجدہ کرتے ہیں چہرہ، ہتھیلیاں، دو گھٹنے اور دو پاؤں۔

معلوم ہوا کہ سجدہ میں ناک پیشانی، دونوں ہتھیلیوں، دونوں گھٹنوں اور دونوں پاؤں کا زمین پر لگانا ضروری (فرض) ہے۔

ایک روایت میں آپ کے الفاظ یہ ہیں: «لا صلوة لمن لم يضع أنفه على الأرض .» [دارقطني: 1/378، رقم: 1303]

’’جو شخص (نماز میں) اپنی ناک، زمین پر نہ رکھے اس کی نماز نہیں ہوتی۔

* آپ سجدے میں ناک اور پیشانی زمین پر (خوب) جما کر رکھتے، اپنے بازؤں کو اپنے پہلوؤں (بغلوں سے دور کرتے اور دونوں ہتھیلیاں کندھوں کے برابر زمین) پر رکھتے تھے «ثم سجد فأمكن أنفه وجبهته ونحي يديه عن جنبيه .» [ابوداود: 734]

وائل بن حجر فرماتے ہیں کہ: «فلماسجد وضع رأسه بذلك المنزل من بين يديه .» [ابوداود: 726]

’’آپ نے جب سجدہ کیا تو اپنے دونوں ہاتھوں کے درمیان اپنے سر کو رکھا۔

* سجدے میں آپ اپنے دونوں بازؤں کو اپنی بغلوں سے ہٹا کر رکھتے تھے۔

دلیل: «ثم يهوي إلى الارض فيجافي يديه عن جنبيه .» [ابوداود: 730]

* آپ سجدے میں اپنے ہاتھ (زمین پر) رکھتے نہ تو انہیں بچھا دیتے اور نہ (بہت) سمیٹ لیتے اپنے پاؤں کی انگلیوں کو قبلہ رخ رکھتے۔

دلیل: «فإذاسجد وضع يديه غير مفترش ولا قابضهما واستقبل باطراف أصابع رجليه القبلة» [صحيح بخاري: 828]

* سجدہ میں آپ کے بغلوں کی سفیدی نظر آ جاتی تھی۔

دلیل: «عن عبدالله بن مالك أن النبى كان إذا صلى فرج بين يديه حتي يبدو بياض إبطيه .» [صحيح بخاري: 390، صحيح مسلم495]

* سجدہ کرتے ہوئے بازؤں کو زمین پربچھانا نہیں چاہئے۔

دلیل: آپ فرماتے تھے کہ: «اعتدلوا فى السجود، ولا ينبسط أحدكم ذراعيه انبساط الكلب .» [صحيح بخاري: 822، صحيح مسلم: 493]

’’سجدے میں اعتدال کرو، کتے کی طرح بازو نہ بچھا دو۔

اس حکم میں مرد اور عورتیں سب شامل ہیں۔ لہٰذا عورتوں کو بھی چاہئے کہ سجدے میں اپنے بازو نہ پھیلائیں۔

* آپ جب سجدہ کرتے تو اگر بکری کا بچہ آپ کے بازؤں کے درمیان سے گزرنا چاہتا تو گزر سکتا تھا۔

دلیل: «عن ميمونه قالت: كان النبى إذاسجد لو شاء ت بهمة أن تمر بين يديه لمرت .» [صحيح مسلم: 496]

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اپنے سینے اور پیٹ کو زمین سے بلند رکھتے تھے «صلوا كما رأيتموني أصلي» کے عام حکم کے تحت عورتوں کے لیے بھی یہی حکم ہے۔
درج بالا اقتباس ماہنامہ الحدیث حضرو، حدیث/صفحہ نمبر: 999 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 493 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’سجدہ اعتدال لے ساتھ کرو اور کوئی اپنی باہوں کو سجدہ میں اس طرح نہ بچھائے جس طرح کتا باہیں زمین پر بچھا دیتا ہے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1102]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: سجدہ میں طمانیت اور سکون اختیار کرنا چاہیے یعنی سجدے میں ہر عضو کو اطمینان کا ساتھ زمین پر رکھنا چاہیے ایسا نہ ہو کہ سر زمین پر رکھا اور فوراً اٹھا لیا اسی طرح سجدے میں کلائیوں کو زمین سے اوپر اٹھا رہنا چاہیے اور آپﷺ نے کلائیوں کے زمین پر رکھنے کی تشبیہ کتے کے فعل کے ساتھ دی ہے تاکہ اس فعل کی قباحت اور برائی اچھی طرح نمازی کے ذہن نشین ہو جائے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 493 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 897 کی شرح از الشیخ مبشر احمد ربانی ✍️
´نمازی سجدہ میں اپنے دونوں بازوؤں کو (جانور کی طرح) زمین پر نہ بچھائے`
«... لَايَنْبَسِطْ اَحَدُكُمْ ذِرَعَيْهِ اِنْبِسَاطَ الْكَلْبِ ...»
تم میں سے کوئی بھی حالتِ سجدہ میں اپنے دونوں بازو کتے کی طرح نہ بچھائے۔[بخاري، كتاب الأذان: باب لايفترش زراعيه فى السجود 822]
فوائد و مسائل
پس معلوم ہوا کہ احناف کے ہاں عورتوں کے سجدہ کرنے کا مروج طریقہ کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں مگر اس طریقے کے خلاف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعدد ارشاد مروی ہیں، چند ایک یہاں نقل کئے جاتے ہیں: ➊ «لَايَنْبَسِطْ اَحَدُكُمْ ذِرَعَيْهِ اِنْبِسَاطَ الْكَلْبِ» [بخاري، كتاب الأذان: باب لايفترش زراعيه فى السجود 822]

تم میں سے کوئی بھی حالتِ سجدہ میں اپنے دونوں بازو کتے کی طرح نہ بچھائے۔

«اِعْتَدِلُوْا فِي السُّجُودِ، وَلَا يَفْتَرِشُ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ الْكَلْبِ» [أبوداؤد، كتاب الصلاة: باب صفة السجود 897]

سجدہ اطمینان سے کرو اور تم میں سے کوئی بھی حالت سجدہ میں اپنے بازو کتے کی طرح نہ بچھائے۔

غرض نماز کے اندر ایسے کاموں سے روکا گیا ہے جو جانوروں کی طرح کے ہوں۔
امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں حیوانات سے مشابہت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ چنانچہ اس طرح بیٹھنا جس طرح اونٹ بیٹھتا ہے یا لومڑی کی طرح اِدھر اُدھر دیکھنا یا جنگلی جانوروں کی طرح افتراش یا کتے کی طرح اقعاء یا کوے کی طرح ٹھونگے مارنا یا سلام کے وقت شریر گھوڑوں کی دم کی طرح ہاتھ اٹھانا یہ سب افعال منع ہیں۔ [زاد المعاد1/ 116]

پس ثابت ہوا کہ سجدہ کا اصل مسنون طریقہ وہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا تھا اور کتب احادیث میں یوں مروی ہے: «إِذَا سَجَدَ وَضَعَ يَدَيْهِ غَيْرَ مُفْتَرِشٍ وَلَا قَابِضِهِمَا» [بخاري، كتاب الأذان: باب سنة الجلوس فى التشهد 828]

جب آپ سجدہ کرتے تو اہنے ہاتھوں کو زمین پر نہ بچھاتے اور نہ اپنے پہلوؤں سے ہی ملاتے تھے۔

قرآن مجید میں جس مقام پر نماز کا حکم وارد ہوا ہے اس میں سے کسی ایک مقام پر بھی اللہ تعالیٰ نے مردوں اور عورتوں کے طریقہ نماز میں فرق بیان نہیں کیا۔ دوسری بات یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کسی صحیح حدیث سے ہیت نماز کا ‬ فرق مروی نہیں۔ تیسری بات یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد رسالت سے جملہ امہات المؤمنین، صحابیات اور احادیث نبویہ پر عمل کرنے والی خواتین کا طریقہ نماز وہی رہا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہوتا تھا۔ چنانچہ امام بخاری رحمہ اللہ نے بسند صحیح ام درداء رضی اللہ عنہا کے متعلق نقل کیا ہے: «انهاكانت تجلس فى صلاتها جلسة الرجل و كانت فقيهة» [التاريخ الصغير للبخاري 90]
وہ نماز میں مردوں کی طرح بیٹھتی تھیں اور وہ فقیہ تھیں۔

چوتھی بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم عام ہے: اس طرح نماز پڑھو، جیسے مجھے نماز پڑھتے دیکھتے ہو۔ [بخاري: 6008]
اس حکم کے عموم میں عورتیں بھی شامل ہیں۔

پانچویں یہ کہ سلف صالحین یعنی خلفائے راشدین، صحاب کرام، تابعین، تبع تابعین، محدثین اور صلحائے امت میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو دلیل کے ساتھ یہ دعوٰی کرتا ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں اور عورتوں کی نماز میں فرق کیا ہے۔ بلکہ امام ابوحنیفہ کے استاد امام ابراہیم نخعی سے صحیح سند کے ساتھ مروی ہے: «تَفْعَلُ الْمَرْأَةُ فِي الصَّلَاةِ كَمَا يَفْعَلُ الرَّجُلُ» [ابن أبى شيبة 2/75/1]
نماز میں عورت بھی بالکل ویسے ہی کرے جیسے مرد کرتا ہے۔
درج بالا اقتباس احکام و مسائل، حدیث/صفحہ نمبر: 196 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1111 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´سجدہ میں اپنی ہیئت درمیانی رکھنے کا بیان۔`
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سجدے میں اپنی ہیئت درمیانی رکھو ۱؎ اور تم میں سے کوئی اپنے دونوں ہاتھوں کو کتے کی طرح نہ پھیلائے - یہ الفاظ اسحاق بن راہویہ کے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1111]
1111۔ اردو حاشیہ: اس وضاحت کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ اس روایت کو امام نسائی رحمہ اللہ نے دو سندوں سے بیان کیا ہے۔ دونوں سندیں حضرت قتادہ پر متفق ہوتی ہیں۔ پہلی سند حضرت اسحاق بن ابراہیم سے ہے اور دوسری حضرت اسماعیل بن مسعود سے۔ (مزید دیکھیے، حدیث: 1029]
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1111 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1104 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´سجدہ میں بازووں کو زمین پر نہ بچھانے کا بیان۔`
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں کوئی شخص سجدے میں اپنے دونوں بازو (زمین پر) کتے کے بچھانے کی طرف نہ بچھائے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1104]
1104۔ اردو حاشیہ: نماز میں بلکہ عموماً بھی جانوروں کی مشابہت منع ہے، خصوصاً حرام جانوروں کی۔ کتا جب زمین پر بیٹھتا یا لیٹتا ہے تو اپنے اگلے بازو زمین پر بچھا لیتا ہے۔ نمازی کو اپنے بازو زمین سے، رانوں سے اور پہلو سے اٹھا کر دور رکھنے چاہئیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1104 سے ماخوذ ہے۔