سنن نسائي
كتاب التطبيق— کتاب: تطبیق کے احکام و مسائل
بَابُ : التَّطْبِيقِ باب: تطبیق یعنی رکوع میں ہاتھوں کی انگلیوں کو ملا کر دونوں گھٹنوں کے بیچ میں رکھنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ ، قال : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قال : سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ ، يُحَدِّثُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، وَالْأَسْوَدِ ، أَنَّهُمَا كَانَا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ فِي بَيْتِهِ فَقَالَ : أَصَلَّى هَؤُلاءِ ؟ . قُلْنَا : نَعَمْ ، فَأَمَّهُمَا وَقَامَ بَيْنَهُمَا بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلا إِقَامَةٍ قَالَ : " إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً فَاصْنَعُوا هَكَذَا وَإِذَا كُنْتُمْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَلْيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ وَلْيَفْرِشْ كَفَّيْهِ عَلَى فَخْذَيْهِ فَكَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى اخْتِلَافِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
´علقمہ اور اسود سے روایت ہے کہ` وہ دونوں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے گھر میں تھے ، تو انہوں نے پوچھا : کیا ان لوگوں نے نماز پڑھ لی ؟ ہم نے کہا : ہاں ! تو انہوں نے بغیر اذان و اقامت کے دونوں کی امامت کی ، اور ان دونوں کے درمیان میں کھڑے ہوئے ، اور کہنے لگے : جب تم تین ہو تو ایسے ہی کرو ، اور جب تم اس سے زیادہ ہو تو تم میں کا ایک شخص تمہاری امامت کرے ، اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اپنی دونوں رانوں پر بچھا لے ، گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست دیکھ رہا ہوں ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
علقمہ اور اسود سے روایت ہے کہ وہ دونوں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے گھر میں تھے، تو انہوں نے پوچھا: کیا ان لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ ہم نے کہا: ہاں! تو انہوں نے بغیر اذان و اقامت کے دونوں کی امامت کی، اور ان دونوں کے درمیان میں کھڑے ہوئے، اور کہنے لگے: جب تم تین ہو تو ایسے ہی کرو، اور جب تم اس سے زیادہ ہو تو تم میں کا ایک شخص تمہاری امامت کرے، اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اپنی دونوں رانوں پر بچھا لے، گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست دیکھ رہا ہوں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1030]
➋ رکوع کے بیان میں یہ روایت بہت مختصر ہے۔ صحیح مسلم میں یہ روایت تفصیل سے آئی ہے۔ ترجمے میں اس روایت کو سامنے رکھا گیا ہے۔ دیکھیے: [صحیح مسلم، المساجد، حدیث: 534)
➌ دو مقتدیوں کی صورت میں امام کیسے کھڑا ہو، یہ مسئلہ پیچھے کتاب الإمامۃ کے ابتدائیے میں گزر چکا ہے۔