حدیث نمبر: 1023
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ عَنْ قِرَاءَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَاتِهِ ، قَالَتْ : " مَا لَكُمْ وَصَلَاتَهُ ، ثُمَّ نَعَتَتْ قِرَاءَتَهُ فَإِذَا هِيَ تَنْعَتُ قِرَاءَةً مُفَسَّرَةً حَرْفًا حَرْفًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´یعلیٰ بن مملک سے روایت ہے کہ` انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت اور نماز کے متعلق پوچھا ، تو انہوں نے کہا : تم کہاں اور آپ کی نماز کہاں ! پھر انہوں نے آپ کی قرأت بیان کی جس کا ایک ایک حرف بالکل واضح تھا ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / باب سجود القرآن / حدیث: 1023
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الصلاة 355 (1466) مطولاً، سنن الترمذی/فضائل القرآن 23 (2923) مطولاً، (تحفة الأشراف: 18226) ، مسند احمد 6/294، 297، 300، 308، وأعادہ المؤلف برقم: 1630 (صحیح) (متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے ورنہ اس کے راوی ’’یعلی‘‘ لین الحدیث ہیں، دیکھئے إرواء رقم: 343)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2927

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´خوش الحانی سے قرآن پڑھنے کا بیان۔`
یعلیٰ بن مملک سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت اور نماز کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: تم کہاں اور آپ کی نماز کہاں! پھر انہوں نے آپ کی قرأت بیان کی جس کا ایک ایک حرف بالکل واضح تھا۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1023]
1023۔ اردو حاشیہ: قرأت صاف ستھری ہونی چاہیے۔ ہر ایک لفظ الگ الگ سمجھ میں آنا چاہیے۔ ہر آیت اور جملے پر ٹھہرنا چاہیے تاکہ پڑھتے اور سنتے وقت معانی و مفہوم کی طرف توجہ ہو۔ معانی دل میں نقش ہوں اور دل پر اثر ہو اور نصیحت حاصل ہو جو قرآن کا اصل مقصد ہے، ورنہ خالی تجوید سے تو کوئی فائدہ نہ ہو گا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1023 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2927 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سورۃ فاتحہ کی قرأت کا بیان۔`
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے، آپ: «الحمد لله رب العالمين» پڑھتے، پھر رک جاتے، پھر «الرحمن الرحيم» پڑھتے پھر رک جاتے، اور «ملك يوم الدين» پڑھتے تھے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب القراءات/حدیث: 2927]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
رسول اکرمﷺیعنی ﴿مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ﴾ کی جگہ ﴿مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ﴾ پڑھتے تھے۔

2؎:
یعنی: ابوعبید قاسم بن سلام ﴿مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ﴾ کی بجائے ﴿مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ﴾ کو پڑھنا پسند کرتے تھے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2927 سے ماخوذ ہے۔