حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ الشُّهَدَاءِ، الَّذِي يَأْتِي بِشَهَادَتِهِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا، أَوْ يُخْبِرُ بِشَهَادَتِهِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا "
علامہ وحید الزماں
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”کیا نہ خبر دوں میں تم کو سب سے بہتر گواہ کی جو گواہی دیتا ہے قبل اس کے کہ پوچھا جائے اس سے۔“
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ قَالَ : قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ، فَقَالَ : لَقَدْ جِئْتُكَ لِأَمْرٍ مَا لَهُ رَأْسٌ وَلَا ذَنَبٌ . فَقَالَ عُمَرُ : " مَا هُوَ ؟ " قَالَ : شَهَادَاتُ الزُّورِ ظَهَرَتْ بِأَرْضِنَا . فَقَالَ عُمَرُ : " أَوَ قَدْ كَانَ ذَلِكَ ؟ " قَالَ : نَعَمْ . فَقَالَ عُمَرُ : " وَاللَّهِ لَا يُؤْسَرُ رَجُلٌ فِي الْإِسْلَامِ بِغَيْرِ الْعُدُولِ "
علامہ وحید الزماں
حضرت ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ ایک شخص عراق کا رہنے والا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا: میں تمہارے پاس اس کام کو آیا ہوں جس کا سر پیر کچھ نہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا ہے؟ اس نے کہا: جھوٹی گواہیاں ہمارے ملک میں بہت پھیل گئی ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: سچ؟ اس نے کہا: ہاں۔ تب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اب کوئی شخص مسلمان قید نہ کیا جائے گا بغیر معتبر گواہوں کے۔
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ : " لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ خَصْمٍ وَلَا ظَنِينٍ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں درست ہے گواہی دشمن کی اور متہم کی۔