حدیث نمبر: 1414
حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ الشُّهَدَاءِ، الَّذِي يَأْتِي بِشَهَادَتِهِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا، أَوْ يُخْبِرُ بِشَهَادَتِهِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا "
علامہ وحید الزماں
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”کیا نہ خبر دوں میں تم کو سب سے بہتر گواہ کی جو گواہی دیتا ہے قبل اس کے کہ پوچھا جائے اس سے۔“
حدیث نمبر: 1415
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ قَالَ : قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ، فَقَالَ : لَقَدْ جِئْتُكَ لِأَمْرٍ مَا لَهُ رَأْسٌ وَلَا ذَنَبٌ . فَقَالَ عُمَرُ : " مَا هُوَ ؟ " قَالَ : شَهَادَاتُ الزُّورِ ظَهَرَتْ بِأَرْضِنَا . فَقَالَ عُمَرُ : " أَوَ قَدْ كَانَ ذَلِكَ ؟ " قَالَ : نَعَمْ . فَقَالَ عُمَرُ : " وَاللَّهِ لَا يُؤْسَرُ رَجُلٌ فِي الْإِسْلَامِ بِغَيْرِ الْعُدُولِ "
علامہ وحید الزماں
حضرت ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ ایک شخص عراق کا رہنے والا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا: میں تمہارے پاس اس کام کو آیا ہوں جس کا سر پیر کچھ نہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا ہے؟ اس نے کہا: جھوٹی گواہیاں ہمارے ملک میں بہت پھیل گئی ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: سچ؟ اس نے کہا: ہاں۔ تب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اب کوئی شخص مسلمان قید نہ کیا جائے گا بغیر معتبر گواہوں کے۔
حدیث نمبر: 1416
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ : " لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ خَصْمٍ وَلَا ظَنِينٍ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں درست ہے گواہی دشمن کی اور متہم کی۔