کتب حدیث ›
موطا امام مالك رواية يحييٰ › ابواب
› باب: جب ہدی مر جائے یا چلنے سے عاجز ہو جائے یا کھو جائے اس کا بیان
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ صَاحِبَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا عَطِبَ مِنَ الْهَدْيِ ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ بَدَنَةٍ عَطِبَتْ مِنَ الْهَدْيِ فَانْحَرْهَا، ثُمَّ أَلْقِ قِلَادَتَهَا فِي دَمِهَا، ثُمَّ خَلِّ بَيْنَهَا وَبَيْنَ النَّاسِ يَأْكُلُونَهَا "
علامہ وحید الزماں
حضرت عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہدی لے جانے والے نے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے: یا رسول اللہ! جو ہدی راستے میں ہلاک ہونے لگے اس کو کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اونٹ ہدی کا ہلاک ہونے لگے، اس کو نحر کر اور اس کے گلے میں جو قلادہ پڑا تھا وہ اس کے خون میں ڈال دے، پھر اس کو چھوڑ دے کہ لوگ کھا لیں اس کو۔“
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ سَاقَ بَدَنَةً تَطَوُّعًا، فَعَطِبَتْ فَنَحَرَهَا، ثُمَّ خَلَّى بَيْنَهَا وَبَيْنَ النَّاسِ يَأْكُلُونَهَا، فَلَيْسَ عَلَيْهِ شَيْءٌ، وَإِنْ أَكَلَ مِنْهَا، أَوْ أَمَرَ مَنْ يَأْكُلُ مِنْهَا غَرِمَهَا "
علامہ وحید الزماں
سعید بن مسیّب نے کہا: جو شخص ہدی کا اونٹ لے جائے، پھر وہ تلف ہونے لگے اور وہ اس کو نحر کر کے چھوڑ دے کہ لوگ اس میں سے کھائیں، تو اس پر کچھ الزام نہیں ہے، البتہ اگر خود اس میں سے کھائے یا کسی کو کھانے کا حکم دے تو تاوان لازم ہوگا۔
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ مِثْلَ ذَلِكَ
علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ایسا ہی کہا ہے۔
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ أَهْدَى بَدَنَةً جَزَاءً أَوْ نَذْرًا أَوْ هَدْيَ تَمَتُّعٍ، فَأُصِيبَتْ فِي الطَّرِيقِ، فَعَلَيْهِ الْبَدَلُ "
علامہ وحید الزماں
ابن شہاب نے کہا: جو شخص اونٹ جزاء کا، یا نذر کا، یا تمتع کا لے گیا، پھر وہ راستے میں تلف ہو گیا تو اس پر عوض اس کا لازم ہے۔
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ أَهْدَى بَدَنَةً، ثُمَّ ضَلَّتْ أَوْ مَاتَتْ فَإِنَّهَا إِنْ كَانَتْ نَذْرًا أَبْدَلَهَا، وَإِنْ كَانَتْ تَطَوُّعًا، فَإِنْ شَاءَ أَبْدَلَهَا، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَهَا " .
علامہ وحید الزماں
افع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: جو شخص اونٹ ہدی کا لے جائے، پھر وہ راستے میں مر جائے یا گم ہو جائے، تو اگر نذر کا ہو تو اس کا عوض دے، اور جو نفل ہو تو چاہے عوض دے چاہے نہ دے۔
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك أَنَّهُ سَمِعَ أَهْلَ الْعِلْمِ يَقُولُونَ : لَا يَأْكُلُ صَاحِبُ الْهَدْيِ مِنَ الْجَزَاءِ وَالنُّسُكِ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے سنا اہلِ علم سے، کہتے تھے: مالک ہدی کا نہ کھائے اس ہدی سے جو جزاء ہو جنایت کی یا فدیہ ہو۔