کتب حدیث ›
موطا امام مالك رواية يحييٰ › ابواب
› باب: جنازہ کو دیکھ کر کھڑے ہو جانا اور بیٹھنا قبروں پر
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَقُومُ فِي الْجَنَائِزِ ثُمَّ جَلَسَ بَعْدُ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو جاتے تھے جنازوں میں۔ پھر بیٹھنے لگے بعد اس کے۔
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، أَنَّهُ بَلَغَهُ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ " كَانَ يَتَوَسَّدُ الْقُبُورَ وَيَضْطَجِعُ عَلَيْهَا " . قَالَ مَالِك : وَإِنَّمَا نُهِيَ عَنِ الْقُعُودِ عَلَى الْقُبُورِ فِيمَا نُرَى لِلْمَذَاهِبِ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تکیہ لگاتے تھے قبروں پر اور لیٹ جاتے تھے ان پر۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: قبروں پر بیٹھنا منع ہے حاجت کے واسطے، یعنی پیشاب اور پاخانہ کے لیے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: قبروں پر بیٹھنا منع ہے حاجت کے واسطے، یعنی پیشاب اور پاخانہ کے لیے۔
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، يَقُولُ : " كُنَّا نَشْهَدُ الْجَنَائِزَ فَمَا يَجْلِسُ آخِرُ النَّاسِ حَتَّى يُؤْذَنُوا "
علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے: ہم جنازوں میں جاتے تھے تو اخیر کا شخص بھی بدون اذن کے نہ بیٹھتا تھا۔