حدیث نمبر: 519
عَنْ مُحَمَّدٍ الْبَاقِرِ ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسِّلَ فِي قَمِيصٍ.
علامہ وحید الزماں
محمد باقر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل دیئے گئے ایک قمیص میں۔
حدیث نمبر: 520
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَتِ ابْنَتُهُ ، فَقَالَ : " اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي " ، قَالَتْ : فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ فَأَعْطَانَا حِقْوَهُ ، فَقَالَ : " أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ " تَعْنِي بِحِقْوِهِ إِزَارَهُ
علامہ وحید الزماں
سیدہ اُم عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی نے انتقال کیا تو آئے ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور کہا: ”غسل دو ان کو تین بار یا پانچ بار یا اس سے زیادہ، پانی اور بیری کے پتوں سے، اور اخیر میں کافور بھی شامل کرو، اور جب تم غسل سے فارغ ہو تو مجھے اطلاع دو۔“ کہا سیدہ اُم عطیہ رضی اللہ عنہا نے: جب غسل سے ہم فارغ ہوئے تو ہم نے اطلاع دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا تہبند دیا، اور کہا: ”یہ ان کے بدن پر لپیٹ دو۔“
حدیث نمبر: 521
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ عُمَيْسٍ غَسَّلَتْ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ حِينَ تُوُفِّيَ ، ثُمَّ خَرَجَتْ فَسَأَلَتْ مَنْ حَضَرَهَا مِنْ الْمُهَاجِرِينَ ، فَقَالَتْ: " إِنِّي صَائِمَةٌ وَإِنَّ هَذَا يَوْمٌ شَدِيدُ الْبَرْدِ فَهَلْ عَلَيَّ مِنْ غُسْلٍ؟ " ، فَقَالُوا: لَا
علامہ وحید الزماں
حضرت عبداللہ بن ابی بکر سے روایت ہے کہ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو غسل دیا جب ان کی وفات ہوئی، پھر نکل کر مہاجرین سے پوچھا کہ میں روزے سے ہوں اور سردی بہت ہے، کیا مجھ پر بھی غسل لازم ہے؟ بولے: نہیں۔
حدیث نمبر: 521B1
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، أَنَّهُ سَمِعَ أَهْلَ الْعِلْمِ يَقُولُونَ: إِذَا مَاتَتِ الْمَرْأَةُ ، وَلَيْسَ مَعَهَا نِسَاءٌ يُغَسِّلْنَهَا ، وَلَا مِنْ ذَوِي الْمَحْرَمِ أَحَدٌ يَلِي ذَلِكَ مِنْهَا ، وَلَا زَوْجٌ يَلِي ذَلِكَ مِنْهَا يُمِّمَتْ فَمُسِحَ بِوَجْهِهَا وَكَفَّيْهَا مِنَ الصَّعِيدِ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے اہلِ علم سے سنا، کہتے تھے: جب عورت مر جائے اور وہاں پر عورتیں نہ ہوں جو اس کو غسل دیں اور نہ کوئی اس کا محرم ہو، نہ شوہر ہو، تو اس کو تیمّم کرایا جائے اس کے منہ اور کفین پر خاک سے۔
حدیث نمبر: 521B2
قَالَ مَالِك: وَإِذَا هَلَكَ الرَّجُلُ وَلَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ إِلَّا نِسَاءٌ يَمَّمْنَهُ أَيْضًا
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: اسی طرح اگر مرد مر جائے اور وہاں سوائے عورتوں کے کوئی مرد نہ ہو تو اس کو تیمّم کرایا جائے۔
حدیث نمبر: 521B3
قَالَ مَالِك: وَلَيْسَ لِغُسْلِ الْمَيِّتِ عِنْدَنَا شَيْءٌ مَوْصُوفٌ وَلَيْسَ لِذَلِكَ صِفَةٌ مَعْلُومَةٌ وَلَكِنْ يُغَسَّلُ فَيُطَهَّرُ
علامہ وحید الزماں
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: ہمارے نزدیک غسلِ میت کی کوئی حد مقرر نہیں ہے، بلکہ جب تک خوب پاکی نہ ہو دھونا چاہیے۔