حدیث نمبر: 494
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ يَدْعُو بِهَا ، فَأُرِيدُ أَنْ أَخْتَبِئَ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي فِي الْآخِرَةِ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”ہر نبی کے لئے ایک دعا مقرر ہے، جو ضرور قبول ہوتی ہے، اور میں چاہتا ہوں کہ اس دعا کو اٹھا رکھوں اپنی اُمّت کی شفاعت کے واسطے آخرت کے دن کے لیے۔“
حدیث نمبر: 495
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّهُ بَلَغَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَدْعُو فَيَقُولُ : " اللَّهُمَّ فَالِقَ الْإِصْبَاحِ ، وَجَاعِلَ اللَّيْلِ سَكَنًا وَالشَّمْسِ وَالْقَمَرِ حُسْبَانًا ، اقْضِ عَنِّي الدَّيْنَ ، وَأَغْنِنِي مِنَ الْفَقْرِ ، وَأَمْتِعْنِي بِسَمْعِي وَبَصَرِي وَقُوَّتِي فِي سَبِيلِكَ "
علامہ وحید الزماں
یحییٰ بن سعید کو پہنچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا مانگتے تھے، پس فرماتے تھے: ”اے اللہ! پیدا کرنے والے صبح کے! اور رات کو راحت بنانے والے! اور سورج اور چاند کو حساب سے چلانے والے! ادا کر تو قرض میرا، اور غنی کر مجھ کو محتاجی سے، اور فائدہ دے مجھ کو میرے کان اور آنکھ سے، اور میری قوت سے اپنی راہ میں۔“
حدیث نمبر: 496
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ إِذَا دَعَا : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ ، اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي إِنْ شِئْتَ ، لِيَعْزِمْ الْمَسْأَلَةَ فَإِنَّهُ لَا مُكْرِهَ لَهُ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی تم میں سے دعا کرے تو یوں نہ کہے: یا اللہ بخش دے مجھ کو اگر چاہے تو، اور رحم کر ہم پر اگر چاہے تو، بلکہ یوں کہے: بخش دے مجھ کو اس لئے کہ اللہ جل جلالہُ پر کوئی جبر کرنے والا نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 497
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يُسْتَجَابُ لِأَحَدِكُمْ مَا لَمْ يَعْجَلْ فَيَقُولُ : قَدْ دَعَوْتُ فَلَمْ يُسْتَجَبْ لِي "
علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”دعا قبول ہوتی ہے جب تک دعا مانگنے والا جلدی نہ کرے، اور یہ کہنے لگے کہ میں نے دعا کی سو دعا میری قبول نہ ہوئی۔“
حدیث نمبر: 498
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرِّ ، وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ فَيَقُولُ : " مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ ، مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ ، مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ” اُترتا ہے رب ہمارا ہر رات کو آسمانِ دنیا تک جب تہائی رات باقی رہتی ہے، سو فرماتا ہے: ”کون شخص ہے جو دعا کرے مجھ سے اور قبول کروں میں دعا اس کی، کون شخص ہے مانگے مجھ سے پس دوں میں اس کو، کون شخص ہے جو بخشش چاہے مجھ سے سو بخش دوں اس کو۔“
حدیث نمبر: 499
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ ، أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَتْ : كُنْتُ نَائِمَةً إِلَى جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَقَدْتُهُ مِنَ اللَّيْلِ ، فَلَمَسْتُهُ بِيَدِي فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى قَدَمَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ ، يَقُولُ : " أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ ، وَبِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ ، أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ "
علامہ وحید الزماں
محمد بن ابراہیم سے روایت ہے کہ اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں سو رہی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں، سو نہ پایا میں نے ان کو، پس چھوا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تو رکھا میں نے ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں پر، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں تھے، فرماتے تھے: ”پناہ مانگتا ہوں میں تیری رضامندی کی تیرے غصے سے، اور تیری عفو کی تیرے عتاب سے، اور تجھ سے میں تیری تعریف نہیں کر سکتا، تو ایسا ہے جس طرح تو نے اپنی تعریف خود کی ہے۔“
حدیث نمبر: 500
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَرِيزٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَفْضَلُ الدُّعَاءِ دُعَاءُ يَوْمِ عَرَفَةَ وَأَفْضَلُ مَا قُلْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّونَ مِنْ قَبْلِي : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”افضل دعاؤں میں دعا عرفہ کے دن کی ہے، اور افضل ان سب کلمات میں جو میں نے کہے ہیں اور اگلے پیغمبروں نے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ» ہے۔“
حدیث نمبر: 501
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، عَنْ طَاوُسٍ الْيَمَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَلِّمُهُمْ هَذَا الدُّعَاءَ ، كَمَا يُعَلِّمُهُمُ السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ ، يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سکھاتے تھے اُن کو یہ دعا جیسے سکھاتے تھے ان کو ایک سورت قرآن کی، فرماتے تھے: ”اے اللہ! پناہ مانگتا ہوں میں تیری جہنم کے عذاب سے، اور پناہ مانگتا ہوں تیری قبر کے عذاب سے، اور پناہ مانگتا ہوں تیری دجال کے فتنہ سے، اور پناہ مانگتا ہوں تیری زندگی اور موت کے فتنہ سے۔“
حدیث نمبر: 502
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، عَنْ طَاوُسٍ الْيَمَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ ، يَقُولُ : " اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ ، أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ ، أَنْتَ الْحَقُّ ، وَقَوْلُكَ الْحَقُّ ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ ، وَالنَّارُ حَقٌّ ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَأَخَّرْتُ وَأَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ ، أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کھڑے ہوتے نماز کو عین رات میں، فرماتے: ”یا اللہ! سب تعریفیں تیرے لئے ہیں، تو نور ہے آسمانوں کا اور زمین کا، اور سب تعریفیں تیرے لئے ہیں اور تو ہی قائم رکھنے والا ہے آسمانوں اور زمینوں کو، اور سب تعریفیں تیرے لئے ہیں اور تو ہی پروردگار ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور اُن کا جو آسمان اور زمین کے بیچ میں ہیں، تو حق ہے، تیرا قول سچا ہے، تیرا وعدہ برحق ہے، تجھ سے ملنا حق ہے، جنت وجہنم حق ہے، قیامت حق ہے، اے پروردگار! تیرے حکم کا میں تابعدار ہوں، اور تجھ پر ایمان لایا، اور تجھ ہی پر بھروسہ کیا، اور تیری ہی طرف متوجہ ہوا، اور تیری مدد سے میں لڑا کفار سے، اور تجھ ہی کو میں نے حاکم بنایا جب اختلاف ہوا، سو بخش دے میرے اگلے اور پچھلے اور چھپے اور کھلے گناہ، تو میرا معبود ہے، تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 503
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ . أَنَّهُ قَالَ : جَاءَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فِي بَنِي مُعَاوِيَةَ وَهِيَ قَرْيَةٌ مِنْ قُرَى الْأَنْصَارِ ، فَقَالَ : هَلْ تَدْرُونَ أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَسْجِدِكُمْ هَذَا ؟ فَقُلْتُ لَهُ : نَعَمْ ، وَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنْهُ ، فَقَالَ : هَلْ تَدْرِي مَا الثَّلَاثُ الَّتِي دَعَا بِهِنَّ فِيهِ ؟ فَقُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَأَخْبِرْنِي بِهِنَّ ، فَقُلْتُ : " دَعَا بِأَنْ لَا يُظْهِرَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ وَلَا يُهْلِكَهُمْ بِالسِّنِينَ ، فَأُعْطِيَهُمَا وَدَعَا بِأَنْ لَا يَجْعَلَ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ فَمُنِعَهَا " ، قَالَ : صَدَقْتَ ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ : " فَلَنْ يَزَالَ الْهَرْجُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ "
علامہ وحید الزماں
حضرت عبداللہ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے پاس آئے بنی معاویہ میں اور وہ ایک گاؤں ہے انصار کے گاؤں میں سے، تو پوچھا مجھ سے: تم کو معلوم ہے کس جگہ پر نماز پڑھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسجد میں تمہاری؟ میں نے کہا : ہاں، معلوم ہے اور ایک کونے کو میں نے بتایا، پھر پوچھا مجھ سے: تم کو معلوم ہے وہ تین دعائیں کون سی ہیں جو مانگی تھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے؟ میں کہا: ہاں، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: بتاؤ مجھ کو، میں نے کہا: دعا کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امر کی کہ مسلمانوں پر کوئی دشمن ان کی غیر قوم کا یعنی کافروں میں سے مسلط نہ کرے، اور اُن کو قحط سے ہلاک نہ کرے، تو یہ دونوں دعائیں قبول ہوگئیں، تیسری دعا یہ ہے کہ مسلمانوں کی آپس میں کشت وخون اور جنگ نہ ہو، تو یہ دعا قبول نہ ہوئی۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: سچ کہا تو نے، پھر کہا کہ اب قیامت تک فساد آپس میں چلتا جائے گا۔
حدیث نمبر: 504
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " مَا مِنْ دَاعٍ يَدْعُو إِلَّا كَانَ بَيْنَ إِحْدَى ثَلَاثٍ إِمَّا أَنْ يُسْتَجَابَ لَهُ ، وَإِمَّا أَنْ يُدَّخَرَ لَهُ ، وَإِمَّا أَنْ يُكَفَّرَ عَنْهُ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا زید بن اسلم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے تھے: جو شخص دعا کرتا ہے تو اس کی دعا تین حال سے خالی نہیں ہوتی، یا قبول ہو جاتی ہے، یا رکھ چھوڑی جاتی ہے قیامت کے دن پر، یا گناہوں کا کفارہ ہو جاتی ہے۔