حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي ، فَلَا يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَلْيَدْرَأْهُ مَا اسْتَطَاعَ ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھتا ہو تو کسی کو اپنے سامنے سے جانے نہ دے، اگر کوئی جانا چاہے تو اشارہ سے منع کرے، اگر نہ مانے تو پھر زور سے منع کرے، اس لیے کہ وہ شیطان ہے۔“
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ أَرْسَلَهُ إِلَى أَبِي جُهَيْمٍ يَسْأَلُهُ مَاذَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَارِّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي ؟ فَقَالَ أَبُو جُهَيْمٍ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ لَكَانَ أَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ خَيْرًا لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ " .
قَالَ أَبُو النَّضْرِ : لَا أَدْرِي أَقَالَ أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ شَهْرًا أَوْ سَنَةً
قَالَ أَبُو النَّضْرِ : لَا أَدْرِي أَقَالَ أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ شَهْرًا أَوْ سَنَةً
علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوجہیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”اگر جانے گزر جانے والا سامنے سے نمازی کے کہ کتنا عذاب ہے اس پر، البتہ چالیس (دن یا مہینے یا برس) کھڑا رہے تو بہتر معلوم ہو اس کو گزر جانے سے۔“
شک ہے اس روایت میں ابوالنصر کو۔
شک ہے اس روایت میں ابوالنصر کو۔
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ كَعْبَ الْأَحْبَارِ قَالَ : " لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ لَكَانَ أَنْ يُخْسَفَ بِهِ خَيْرًا لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ "
علامہ وحید الزماں
حضرت عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ کعب احبار نے کہا: جو شخص گزرتا ہے نمازی کے سامنے سے اگر اس کو معلوم ہو عذاب اس فعل کا، البتہ اگر دھنس جائے زمین میں تو اچھا معلوم ہو اس کو سامنے گزر جانے سے۔
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، أَنَّهُ بَلَغَهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ " كَانَ يَكْرَهُ ، أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ أَيْدِي النِّسَاءِ وَهُنَّ يُصَلِّينَ "
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ سيدنا عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما عورتوں کے آگے سے گزرنا بھی ناپسند جانتے تھے جس وات کہ وہ نماز پڑھ رہی ہوتیں۔
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ " كَانَ لَا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْ أَحَدٍ وَلَا يَدَعُ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ "
علامہ وحید الزماں
نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نہیں گزرتے تھے نماز میں کسی کے سامنے سے، اور نہ اپنے سامنے سے کسی کو گزرنے دیتے تھے۔