کتب حدیث ›
موطا امام مالك رواية يحييٰ › ابواب
› باب: جمعہ کی نماز میں قرأت اور احتباء کا بیان اور جمعہ کو جو ترک کرے بغیر عذر کے اس کا حال
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ الْمَازِنِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ الضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ ، سَأَلَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ مَاذَا كَانَ يَقْرَأُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى إِثْرِ سُورَةِ الْجُمُعَةِ ، قَالَ : " كَانَ يَقْرَأُ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا ضحاک بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے روز سورۃ الجمعۃ کے بعد کون سی سورت پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ «﴿هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ﴾» ۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٌ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يَحْتَبِي يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما جمعہ کے دن احتباء کرتے تھے اور امام خطبہ پڑھ رہا ہوتا تھا۔
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، قَالَ مَالِك : لَا أَدْرِي أَعَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْ لَا أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ وَلَا عِلَّةٍ ، طَبَعَ اللَّهُ عَلَى قَلْبِهِ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا صفوان بن سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے لیکن مالک بن انس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل ہے یا نہیں کہ ”جو شخص جمعہ کو تین بار بغیر عذر اور بغیر بیماری کے چھوڑ دے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دے گا۔“
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " خَطَبَ خُطْبَتَيْنِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَجَلَسَ بَيْنَهُمَا "
علامہ وحید الزماں
محمد باقر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن دو خطبہ پڑھے، اور دونوں خطبوں کے درمیان آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے۔