موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الحج— کتاب: حج کے بیان میں
بَابُ فِدْيَةِ مَا أُصِيبَ مِنَ الطَّيْرِ وَالْوَحْشِ باب: جو شکار مارے پرند چرند کا، اس کی جزاء کا بیان
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " فِي حَمَامِ مَكَّةَ إِذَا قُتِلَ شَاةٌ " .سعید بن مسیّب سے روایت ہے، وہ کہتے تھے: مکہ کے کبوتر میں جب قتل کیا جائے تو ایک بکری لازم ہے۔
وَقَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ يُحْرِمُ بِالْحَجِّ أَوِ الْعُمْرَةِ، وَفِي بَيْتِهِ فِرَاخٌ مِنْ حَمَامِ مَكَّةَ، فَيُغْلَقُ عَلَيْهَا فَتَمُوتُ، فَقَالَ : أَرَى بِأَنْ يَفْدِيَ ذَلِكَ عَنْ كُلِّ فَرْخٍ بِشَاةٍامام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ایک شخص مکہ کا رہنے والا احرام باندھے حج یا عمرہ کا، اور اس کے گھر میں ایک گھونسلا ہو کبوتر کے بچوں کا، وہ گھونسلے کا منہ بند کر دے اور بچے مر جائیں، تو ہر بچہ کے بدلے ایک ایک بکری دینا ہو گی۔
قَالَ مَالِك : لَمْ أَزَلْ أَسْمَعُ أَنَّ فِي النَّعَامَةِ إِذَا قَتَلَهَا الْمُحْرِمُ بَدَنَةًکہا امام مالک رحمہ اللہ نے: میں ہمیشہ سنتا آیا ہوں کہ شتر مرغ کو جب محرم مار ڈالے تو ایک اونٹ واجب ہو گا۔
قَالَ مَالِك : أَرَى أَنَّ فِي بَيْضَةِ النَّعَامَةِ عُشْرَ ثَمَنِ الْبَدَنَةِ، كَمَا يَكُونُ فِي جَنِينِ الْحُرَّةِ غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ وَلِيدَةٌ، وَقِيمَةُ الْغُرَّةِ خَمْسُونَ دِينَارًا وَذَلِكَ عُشْرُ دِيَةِ أُمِّهِ .کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: شتر مرغ کے انڈے میں اونٹ کا دسواں حصہ لازم ہے، جیسے آزاد عورت کے پیٹ کے بچے کو کوئی مار ڈالے تو ایک لونڈی یا غلام دینا ہو گا، جس کی قیمت پچاس دینار ہو، اور پچاس دینار کل دیت کا دسواں حصہ ہے۔
قَالَ مَالِك : وَكُلُّ شَيْءٍ مِنَ النُّسُورِ، أَوِ الْعِقْبَانِ، أَوِ الْبُزَاةِ، أَوِ الرَّخَمِ، فَإِنَّهُ صَيْدٌ يُودَى، كَمَا يُودَى الصَّيْدُ، إِذَا قَتَلَهُ الْمُحْرِمُکہا امام مالک رحمہ اللہ نے: نسر اور عقاب اور رخم یہ سب صید ہیں، اگر ان کو مارے گا تو جزاء دینی ہوگی
قَالَ مَالِك : وَكُلُّ شَيْءٍ فُدِيَ فَفِي صِغَارِهِ مِثْلُ مَا يَكُونُ فِي كِبَارِهِ، وَإِنَّمَا مَثَلُ ذَلِكَ مَثَلُ دِيَةِ الْحُرِّ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ فَهُمَا بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ سَوَاءٌکہا امام مالک رحمہ اللہ نے: جس جانور کا جو بدلہ ہے وہ ہی رہے گا اگرچہ وہ جانور چھوٹا یا بڑا ہو، جیسے دیت صغیر اور کبیر کی برابر ہے۔ یعنی چھوٹے ہرن کا بدلہ بھی ایک بکری ہے اور برے ہرن کا عوض بھی ایک بکری ہے، جیسے کوئی بڑے آدمی کو مارے تو بھی وہی دیت ہے اور لڑکے کو مارے تب بھی وہی دیت ہے۔