موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الحج— کتاب: حج کے بیان میں
بَابُ تَقْبِيلِ الرُّكْنِ الْأَسْوَدِ فِي الِاسْتِلَامِ باب: حجرِ اسود کے استلام کے وقت اس کو چومنے کا بیان
حدیث نمبر: 815
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالَ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ ، لِلرُّكْنِ الْأَسْوَدِ : " إِنَّمَا أَنْتَ حَجَرٌ وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَكَ مَا قَبَّلْتُكَ ثُمَّ قَبَّلَهُ " علامہ وحید الزماں
حضرت عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا، جب وہ طواف کر رہے تھے خانۂ کعبہ کا، حجرِ اسود کو: تو ایک پتھر ہے، نہ نفع پہنچا سکتا ہے نہ نقصان، اور اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے چومتے نہ دیکھا ہوتا تو میں نہ چومتا تجھ کو۔ پھر چوما حجرِ اسود کو۔
قَالَ مَالِك : سَمِعْتُ بَعْضَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَسْتَحِبُّ إِذَا رَفَعَ الَّذِي يَطُوفُ بِالْبَيْتِ يَدَهُ عَنْ الرُّكْنِ الْيَمَانِي أَنْ يَضَعَهَا عَلَى فِيهِعلامہ وحید الزماں
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: بعض اہلِ علم سے میں نے سنا کہ جب رُکنِ یمانی سے ہاتھ لگا کر اٹھائے تو ہاتھ منہ پر رکھ لے مگر اس کو چومے نہیں۔