موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الحج— کتاب: حج کے بیان میں
بَابُ مَا يَجُوزُ لِلْمُحْرِمِ أَنْ يَفْعَلَهُ باب: جو کام محرم کو درست ہیں اُن کا بیان
حدیث نمبر: 795
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، أَنَّهُ سَأَلَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ عَنْ ظُفْرٍ لَهُ انْكَسَرَ وَهُوَ مُحْرِمٌ ، فَقَالَ سَعِيدٌ : " اقْطَعْهُ " علامہ وحید الزماں
محمد بن عبداللہ بن ابی مریم نے پوچھا سعید بن مسیّب سے کہ میرا ایک ناخن ٹوٹ گیا ہے اور احرام باندھے ہوں۔ سعید نے کہا: کاٹ ڈال اس کو۔
وَسُئِلَ مَالِك ، عَنِ الرَّجُلِ يَشْتَكِي أُذُنَهُ أَيَقْطُرُ فِي أُذُنِهِ مِنَ الْبَانِ الَّذِي لَمْ يُطَيَّبْ وَهُوَ مُحْرِمٌ ، فَقَالَ : لَا أَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا وَلَوْ جَعَلَهُ فِي فِيهِ لَمْ أَرَ بِذَلِكَ بَأْسًاعلامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ سے سوال ہوا: محرم کے کان میں درد ہو تو وہ اپنے کان میں روغنِ بان جس میں خوشبو نہ ہو ڈالے؟ جواب دیا: کچھ قباحت نہیں ہے، اگر منہ میں بھی ڈالے تو کچھ حرج نہیں ہے۔
قَالَ مَالِك : وَلَا بَأْسَ أَنْ يَبُطَّ الْمُحْرِمُ خُرَاجَهُ وَيَفْقَأَ دُمَّلَهُ وَيَقْطَعَ عِرْقَهُ إِذَا احْتَاجَ إِلَى ذَلِكَعلامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر محرم اپنے پھوڑے کو چیرے، یا آبلہ پھوڑے، یا فصد کھولے ضرورت کے وقت، تو کچھ حرج نہیں ہے۔