موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الحج— کتاب: حج کے بیان میں
بَابُ مَا يَجُوزُ لِلْمُحْرِمِ أَكْلُهُ مِنَ الصَّيْدِ باب: جس شکار کا محرم کو کھانا درست ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 779
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ فِي الْحِمَارِ الْوَحْشِيِّ مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي النَّضْرِ إِلَّا أَنَّ فِي حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " هَلْ مَعَكُمْ مِنْ لَحْمِهِ شَيْءٌ ؟ " علامہ وحید الزماں
عطاء بن یسار نے سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کی حدیث گورخر مارنے کی، ویسی ہی روایت کی جیسی اوپر بیان ہوئی، مگر اس حدیث میں اتنا زیادہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا اس گوشت میں سے کچھ تمہارے پاس باقی ہے۔“