موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الحج— کتاب: حج کے بیان میں
بَابُ قَطْعِ التَّلْبِيَةِ فِي الْعُمْرَةِ باب: عمرہ میں لبیک کب موقوف کرے
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، " أَنَّهُ كَانَ يَقْطَعُ التَّلْبِيَةَ فِي الْعُمْرَةِ إِذَا دَخَلَ الْحَرَمَ " حضرت عروہ بن زبیر لبیک موقوف کرتے تھے عمرہ میں جب داخل ہوجاتے حرم میں۔
قَالَ مَالِك فِيمَنْ أَحْرَمَ مِنَ التَّنْعِيمِ : إِنَّهُ يَقْطَعُ التَّلْبِيَةَ حِينَ يَرَى الْبَيْتَامام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جو شخص احرام باندھے عمرہ کا، احرام تنعیم سے باندھے وہ لبیک موقوف نہ کرے جب تک کہ خانۂ کعبہ نہ دیکھے۔
قَالَ يَحْيَى : سُئِلَ مَالِك ، عَنِ الرَّجُلِ يَعْتَمِرُ مِنْ بَعْضِ الْمَوَاقِيتِ وَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَوْ غَيْرِهِمْ مَتَى يَقْطَعُ التَّلْبِيَةَ ؟ قَالَ : أَمَّا الْمُهِلُّ مِنَ الْمَوَاقِيتِ فَإِنَّهُ يَقْطَعُ التَّلْبِيَةَ إِذَا انْتَهَى إِلَى الْحَرَمِ ، قَالَ : وَبَلَغَنِي ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يَصْنَعُ ذَلِكَامام مالک رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ جو شخص احرام باندھے عمرہ کا میقات سے اور وہ مدینہ یا کسی اور شہر کا رہنے والا ہے تو لبیک کب موقوف کرے؟ امام مالک رحمہ اللہ نے جواب دیا کہ جو شخص میقات سے احرام باندھے وہ زمینِ حرم میں داخل ہوتے ہی لبیک موقوف کر دے، اور مجھے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایسا ہی پہنچا، وہ ایسا ہی کرتے تھے۔