حدیث نمبر: 761
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، " أَنَّهُ كَانَ يَقْطَعُ التَّلْبِيَةَ فِي الْعُمْرَةِ إِذَا دَخَلَ الْحَرَمَ "
علامہ وحید الزماں

حضرت عروہ بن زبیر لبیک موقوف کرتے تھے عمرہ میں جب داخل ہوجاتے حرم میں۔

قَالَ مَالِك فِيمَنْ أَحْرَمَ مِنَ التَّنْعِيمِ : إِنَّهُ يَقْطَعُ التَّلْبِيَةَ حِينَ يَرَى الْبَيْتَ
علامہ وحید الزماں

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جو شخص احرام باندھے عمرہ کا، احرام تنعیم سے باندھے وہ لبیک موقوف نہ کرے جب تک کہ خانۂ کعبہ نہ دیکھے۔

قَالَ يَحْيَى : سُئِلَ مَالِك ، عَنِ الرَّجُلِ يَعْتَمِرُ مِنْ بَعْضِ الْمَوَاقِيتِ وَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَوْ غَيْرِهِمْ مَتَى يَقْطَعُ التَّلْبِيَةَ ؟ قَالَ : أَمَّا الْمُهِلُّ مِنَ الْمَوَاقِيتِ فَإِنَّهُ يَقْطَعُ التَّلْبِيَةَ إِذَا انْتَهَى إِلَى الْحَرَمِ ، قَالَ : وَبَلَغَنِي ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يَصْنَعُ ذَلِكَ
علامہ وحید الزماں

امام مالک رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ جو شخص احرام باندھے عمرہ کا میقات سے اور وہ مدینہ یا کسی اور شہر کا رہنے والا ہے تو لبیک کب موقوف کرے؟ امام مالک رحمہ اللہ نے جواب دیا کہ جو شخص میقات سے احرام باندھے وہ زمینِ حرم میں داخل ہوتے ہی لبیک موقوف کر دے، اور مجھے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایسا ہی پہنچا، وہ ایسا ہی کرتے تھے۔

حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الحج / حدیث: 761
درجۂ حدیث محدثین: مقطوع صحيح
تخریج حدیث «مقطوع صحيح، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 14009، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 59»