موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الحج— کتاب: حج کے بیان میں
بَابُ تَخْمِيرِ الْمُحْرِمِ وَجْهَهُ باب: محر م کو اپنا منہ ڈھانپنا کیسا ہے
حدیث نمبر: 719
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَفَّنَ ابْنَهُ وَاقِدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَمَاتَ بِالْجُحْفَةِ مُحْرِمًا وَخَمَّرَ رَأْسَهُ وَوَجْهَهُ ، وَقَالَ : " لَوْلَا أَنَّا حُرُمٌ لَطَيَّبْنَاهُ " . ¤قَالَ مَالِك : وَإِنَّمَا يَعْمَلُ الرَّجُلُ مَا دَامَ حَيًّا فَإِذَا مَاتَ فَقَدِ انْقَضَى الْعَمَلُعلامہ وحید الزماں
حضرت نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کفن دیا اپنے بیٹے واقد بن عبداللہ کو اور وہ مر گئے تھے حجفہ میں احرام کی حالت میں، اور کہا کہ اگر ہم احرام نہ باندھے ہوتے تو ہم اس کو خوشبو لگاتے اور ڈھانپ دیا سر اور منہ اُن کا۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: اس واسطے کہ سب تکالیفِ شرعیہ زندگی تک ہیں، جب آدمی مر گیا تو اس کا عمل بھی تمام ہو گیا۔