موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب القرآن— کتاب: قرآن کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي الدُّعَاءِ باب: دعا کے بیان میں
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ . أَنَّهُ قَالَ : جَاءَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فِي بَنِي مُعَاوِيَةَ وَهِيَ قَرْيَةٌ مِنْ قُرَى الْأَنْصَارِ ، فَقَالَ : هَلْ تَدْرُونَ أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَسْجِدِكُمْ هَذَا ؟ فَقُلْتُ لَهُ : نَعَمْ ، وَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنْهُ ، فَقَالَ : هَلْ تَدْرِي مَا الثَّلَاثُ الَّتِي دَعَا بِهِنَّ فِيهِ ؟ فَقُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَأَخْبِرْنِي بِهِنَّ ، فَقُلْتُ : " دَعَا بِأَنْ لَا يُظْهِرَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ وَلَا يُهْلِكَهُمْ بِالسِّنِينَ ، فَأُعْطِيَهُمَا وَدَعَا بِأَنْ لَا يَجْعَلَ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ فَمُنِعَهَا " ، قَالَ : صَدَقْتَ ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ : " فَلَنْ يَزَالَ الْهَرْجُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " حضرت عبداللہ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے پاس آئے بنی معاویہ میں اور وہ ایک گاؤں ہے انصار کے گاؤں میں سے، تو پوچھا مجھ سے: تم کو معلوم ہے کس جگہ پر نماز پڑھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسجد میں تمہاری؟ میں نے کہا : ہاں، معلوم ہے اور ایک کونے کو میں نے بتایا، پھر پوچھا مجھ سے: تم کو معلوم ہے وہ تین دعائیں کون سی ہیں جو مانگی تھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے؟ میں کہا: ہاں، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: بتاؤ مجھ کو، میں نے کہا: دعا کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امر کی کہ مسلمانوں پر کوئی دشمن ان کی غیر قوم کا یعنی کافروں میں سے مسلط نہ کرے، اور اُن کو قحط سے ہلاک نہ کرے، تو یہ دونوں دعائیں قبول ہوگئیں، تیسری دعا یہ ہے کہ مسلمانوں کی آپس میں کشت وخون اور جنگ نہ ہو، تو یہ دعا قبول نہ ہوئی۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: سچ کہا تو نے، پھر کہا کہ اب قیامت تک فساد آپس میں چلتا جائے گا۔