حدیث نمبر: 472
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّهُ قَالَ : كُنْتُ أَنَا وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ جَالِسَيْنِ فَدَعَا مُحَمَّدٌ رَجُلًا ، فَقَالَ : أَخْبِرْنِي بِالَّذِي سَمِعْتَ مِنْ أَبِيكَ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّهُ أَتَى زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ ، فَقَالَ لَهُ : كَيْفَ تَرَى فِي قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِي سَبْعٍ ؟ فَقَالَ زَيْدٌ : " حَسَنٌ وَلَأَنْ أَقْرَأَهُ فِي نِصْفٍ أَوْ عَشْرٍ أَحَبُّ إِلَيَّ وَسَلْنِي لِمَ ذَاكَ " ، قَالَ : فَإِنِّي أَسْأَلُكَ ، قَالَ زَيْدٌ : " لِكَيْ أَتَدَبَّرَهُ وَأَقِفَ عَلَيْهِ "
علامہ وحید الزماں

یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں اور محمد بن یحییٰ بن حبان بیٹھے ہوئے تھے، سو محمد نے ایک شخص کو بلایا اور کہا: تم نے جو اپنے باپ سے سنا ہے اس کو بیان کرو۔ اس شخص نے کہا: میرا باپ گیا سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس اور اُن سے پوچھا کہ سات روز میں کلام اللہ تمام کرنا کیسا ہے؟ بولے: اچھا ہے میرے نزدیک پندرہ روز یا بیس روز میں تمام کرنا بہتر ہے، پوچھو مجھ سے کیوں؟ کہا انہوں نے۔ میں نے پوچھا: کیوں؟ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا: تاکہ میں اس کو سمجھتا جاؤں یاد رکھتا جاؤں۔

حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب القرآن / حدیث: 472
درجۂ حدیث محدثین: موقوف ضعيف
تخریج حدیث «موقوف ضعيف، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 162، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 5951، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 8673، والبيهقي فى «شعب الايمان» برقم: 2043، 2044، شركة الحروف نمبر: 433، فواد عبدالباقي نمبر: 15 - كِتَابُ الْقُرْآنِ-ح: 4»