حدیث نمبر: 394
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْقَارِئِ ، أَنَّهُ قَالَ : " كُنْتُ أُصَلِّي ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَرَائِي وَلَا أَشْعُرُ بِهِ فَالْتَفَتُّ فَغَمَزَنِي "
علامہ وحید الزماں

ابوجعفر قاری سے روایت ہے کہ میں نماز پڑھتا تھا اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما میرے پیچھے تھے، مجھے خبر نہ تھی، میں نے ان کو دیکھا تو دبا دیا انہوں نے مجھ کو (یعنی منع کیا التفات سے)۔

حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب قصر الصلاة في السفر / حدیث: 394
درجۂ حدیث محدثین: موقوف صحيح
تخریج حدیث «موقوف صحيح، و أخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 3274، شركة الحروف نمبر: 362، فواد عبدالباقي نمبر: 9 - كِتَابُ قَصْرِ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ-ح: 63»