موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الجامع— کتاب: مختلف ابواب کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْفَأْرَةِ تَقَعُ فِي السَّمْنِ ، وَالْبَدْءِ بِالْأَكْلِ قَبْلَ الصَّلَاةِ باب: چوہا گھی میں گر پڑے تو کیا کرنا چاہیے؟ اور کھانا بھی آ جائے اور نماز کا وقت بھی آ جائے تو پہلے کھانا کھا لینا چاہیے
حدیث نمبر: 1775
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ " يُقَرَّبُ إِلَيْهِ عَشَاؤُهُ فَيَسْمَعُ قِرَاءَةَ الْإِمَامِ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ، فَلَا يَعْجَلُ عَنْ طَعَامِهِ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ مِنْهُ " علامہ وحید الزماں
نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے سامنے شام کا کھانا پیش کیا جاتا تو وہ امام کی قراءت سنا کرتے اپنے گھر میں، اور کھانے میں جلدی نہ کرتے جب تک اچھے طور سے نہ کھا لیتے۔