موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الجامع— کتاب: مختلف ابواب کے بیان میں
بَابُ السُّنَّةِ فِي الشُّرْبِ وَمُنَاوَلَتِهِ عَنِ الْيَمِينِ باب: پانی یا شربت پلانا داہنی طرف سے شروع کرنے کا بیان
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِشَرَابٍ، فَشَرِبَ مِنْهُ وَعَنْ يَمِينِهِ غُلَامٌ وَعَنْ يَسَارِهِ الْأَشْيَاخُ، فَقَالَ لِلْغُلَامِ : " أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أُعْطِيَ هَؤُلَاءِ ؟ " فَقَالَ الْغُلَامُ : لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا أُوثِرُ بِنَصِيبِي مِنْكَ أَحَدًا، قَالَ : فَتَلَّهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِهِ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے داہنی طرف ایک لڑکا تھا اور بائیں طرف بوڑھے بوڑھے لوگ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکے سے فرمایا: ”اگر تو اجازت دے تو پہلے میں ان لوگوں کو دے دوں؟“ (جو بائیں طرف تھے)، لڑکے نے کہا: نہیں! اللہ کی قسم یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں اپنا حصّہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوٹھے (پیئے ہوئے) میں سے کسی کو دینا نہیں چاہتا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اسی لڑکے کو دے دیا۔