موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الجامع— کتاب: مختلف ابواب کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمُهَاجَرَةِ باب: ملاقات ترک کرنے کے بیان میں
حدیث نمبر: 1642
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ، وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا تَحَسَّسُوا وَلَا تَنَافَسُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا " علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: ”بچو تم بد گمانی سے کیونکہ بد گمانی بڑا جھوٹ ہے، اور مت کھوج لگاؤ (لوگوں کی برائیوں کی یا عیبوں کی)، اور مت تفتیش کرو، اور مت حرص کرو دنیا کی، اور مت حسد کرو، نہ بغض کرو، نہ ایک دوسرے سے پیٹھ موڑو، بلکہ ہو جاؤ اللہ کے بندے بھائی بھائی۔“