موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الأشربة— کتاب: اشیائے نو ش کے بیان میں
بَابُ جَامِعِ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ باب: شراب کی حرمت کے مختلف مسائل
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ ابْنِ وَعْلَةَ الْمِصْرِيِّ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ عَمَّا يُعْصَرُ مِنَ الْعِنَبِ ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَهْدَى رَجُلٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاوِيَةَ خَمْرٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ اللَّهَ حَرَّمَهَا "، قَالَ : لَا، فَسَارَّهُ رَجُلٌ إِلَى جَنْبِهِ، فَقَالَ لَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بِمَ سَارَرْتَهُ ؟ " فَقَالَ : أَمَرْتُهُ أَنْ يَبِيعَهَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا حَرَّمَ بَيْعَهَا "، فَفَتَحَ الرَّجُلُ الْمَزَادَتَيْنِ حَتَّى ذَهَبَ مَا فِيهِمَا سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے ایک مشک شراب کی تحفہ لایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو حرام کیا ہے؟“ وہ بولا: مجھے خبر نہیں۔ ایک شخص نے چپکے سے اس کے کان میں کچھ کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تو نے کیا کہا؟“ وہ بولا: میں نے بیچ ڈالنے کو کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اس کا پینا حرام کیا اس نے اس کا بیچنا بھی حرام کیا۔“ یہ سن کر اس شخص نے مشک کا منہ کھول دیا، سب شراب بہہ گئی۔