موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الأشربة— کتاب: اشیائے نو ش کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي تَحْرِيمِ الْخَمْرِ باب: خمر کی حرمت کا بیان
حدیث نمبر: 1587
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْغُبَيْرَاءِ، فَقَالَ : " لَا خَيْرَ فِيهَا "، وَنَهَى عَنْهَا . قَالَ مَالِك : فَسَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ : مَا الْغُبَيْرَاءُ ؟ فَقَالَ : هِيَ الْأُسْكَرْكَةُ .علامہ وحید الزماں
عطاء بن یسار سے روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا جوار کی شراب کے بارے میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہتر نہیں ہے۔“ اور منع کیا اس سے۔ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ پھر میں نے زید بن اسلم رحمہ اللہ سے پوچھا کہ «غُبَيْرَاء» کیا چیز ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: یہ «سْكَرْكَةُ» یعنی مکئی کی شراب ہے۔