حدیث نمبر: 1509
عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍٍ، يَذْكُرُ أَنَّ الْمُوضِحَةَ فِي الْوَجْهِ مِثْلُ الْمُوضِحَةِ فِي الرَّأْسِ، إِلَّا أَنْ تَعِيبَ الْوَجْهَ فَيُزَادُ فِي عَقْلِهَا، مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ عَقْلِ نِصْفِ الْمُوضِحَةِ فِي الرَّأْسِ، فَيَكُونُ فِيهَا خَمْسَةٌ وَسَبْعُونَ دِينَارًا. ¤
علامہ وحید الزماں

یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ سلیمان بن یسار کہتے تھے کہ موضحہ چہرے میں ایسا ہے جیسے موضحہ سر میں، مگر جب چہرے میں اس کی وجہ سے کوئی عیب ہو جائے تو دیت بڑھا دی جائے گی۔ موضحہ سر کے آدھے تک ہو تو اس میں پچھتر (75) دینار لازم ہوں گے۔

قَالَ مَالِكٌ : وَالْأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّ فِي الْمُنَقِّلَةِ خَمْسَ عَشَرَةَ فَرِيضَةً. ¤
علامہ وحید الزماں

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک یہ حکم اجماعی ہے کہ منقلہ میں پندرہ اونٹ ہیں۔

قَالَ مَالِكٌ : وَالْمُنَقِّلَةُ الَّتِي يَطِيرُ فِرَاشُهَا مِنَ الْعَظْمِ، وَلَا تَخْرِقُ إِلَى الدِّمَاغِ، وَهِيَ تَكُونُ فِي الرَّأْسِ وَفِي الْوَجْهِ. ¤
علامہ وحید الزماں

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ منقلہ وہ ضرب ہے جس سے ہڈی اپنے مقام سے جدا ہو جائے اور دماغ تک نہ پہنچے، اور وہ سر اور منہ میں ہوتی ہے۔

قَالَ مَالِكٌ : الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّ الْمَأْمُومَةَ وَالْجَائِفَةَ لَيْسَ فِيهِمَا قَوَدٌ. وَقَدْ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : لَيْسَ فِي الْمَأْمُومَةِ قَوَدٌ. ¤
علامہ وحید الزماں

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک یہ حکم اجماعی ہے کہ مامومہ اور جائفہ میں قصاص نہیں ہے، اور ابن شہاب نے بھی ایسا ہی کہا ہے کہ مامومہ میں قصاص نہیں ہے۔

قَالَ مَالِكٌ : وَالْمَأْمُومَةُ مَا خَرَقَ الْعَظْمَ إِلَى الدِّمَاغِ، وَلَا تَكُونُ الْمَأْمُومَةُ إِلَّا فِي الرَّأْسِ، وَمَا يَصِلُ إِلَى الدِّمَاغِ إِذَا خَرَقَ الْعَظْمَ. ¤
علامہ وحید الزماں

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ مامومہ وہ ضرب ہے جو دماغ تک پہنچ جائے ہڈی توڑ کر، اور مامومہ سر ہی میں ہوا کرتی ہے۔

قَالَ مَالِكٌ : الْأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّهُ لَيْسَ فِيمَا دُونَ الْمُوضِحَةِ مِنَ الشِّجَاجِ عَقْلٌ. حَتَّى تَبْلُغَ الْمُوضِحَةَ، وَإِنَّمَا الْعَقْلُ فِي الْمُوضِحَةِ فَمَا فَوْقَهَا. وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتَهَى إِلَى الْمُوضِحَةِ فِي كِتَابِهِ لِعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فَجَعَلَ فِيهَا خَمْسًا مِنَ الْإِبِلِ، وَلَمْ تَقْضِ الْأَئِمَّةُ فِي الْقَدِيمِ، وَلَا فِي الْحَدِيثِ فِيمَا دُونَ الْمُوضِحَةِ بِعَقْلٍ.
علامہ وحید الزماں

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک یہ حکم اجماعی ہے کہ موضحہ سے کم جو زخم ہو اس میں دیت نہیں ہے جب تک کہ موضحہ تک نہ پہنچے، بلکہ دیت موضحہ میں ہے یا جو اس سے بھی زیادہ ہو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمرو بن حزم کی حدیث میں موضحہ میں پانچ اونٹ ہیں، اس سے کم کو بیان نہ کیا، نہ کسی امام نے زمانۂ سابق یا حال میں موضحہ سے کم میں دیت کا حکم کیا۔

حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب العقول / حدیث: 1509
درجۂ حدیث محدثین: مقطوع صحيح
تخریج حدیث «مقطوع صحيح، وأخرجه البيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 16201، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 17332، 18018، 18019، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 26816، 27864، 27874، فواد عبدالباقي نمبر: 43 - كِتَابُ الْعُقُولِ-ح: 6ق5»