موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الأقضية— کتاب: حکموں کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي الشَّهَادَاتِ باب: گواہیوں کا بیان
حدیث نمبر: 1415
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ قَالَ : قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ، فَقَالَ : لَقَدْ جِئْتُكَ لِأَمْرٍ مَا لَهُ رَأْسٌ وَلَا ذَنَبٌ . فَقَالَ عُمَرُ : " مَا هُوَ ؟ " قَالَ : شَهَادَاتُ الزُّورِ ظَهَرَتْ بِأَرْضِنَا . فَقَالَ عُمَرُ : " أَوَ قَدْ كَانَ ذَلِكَ ؟ " قَالَ : نَعَمْ . فَقَالَ عُمَرُ : " وَاللَّهِ لَا يُؤْسَرُ رَجُلٌ فِي الْإِسْلَامِ بِغَيْرِ الْعُدُولِ " علامہ وحید الزماں
حضرت ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ ایک شخص عراق کا رہنے والا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا: میں تمہارے پاس اس کام کو آیا ہوں جس کا سر پیر کچھ نہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا ہے؟ اس نے کہا: جھوٹی گواہیاں ہمارے ملک میں بہت پھیل گئی ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: سچ؟ اس نے کہا: ہاں۔ تب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اب کوئی شخص مسلمان قید نہ کیا جائے گا بغیر معتبر گواہوں کے۔