موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب البيوع— کتاب: خرید و فروخت کے احکام میں
بَابُ الْجَائِحَةِ فِي بَيْعِ الثِّمَارِ وَالزَّرْعِ باب: پھلوں اور کھیتوں کی بیع میں آفت کا بیان
حدیث نمبر: 1319
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ " قَضَى بِوَضْعِ الْجَائِحَةِ " .علامہ وحید الزماں
حضرت عمر بن عبدالعزیز نے حکم کیا مشتری کو نقصان دلانے کا، جب کھیت یا میوے کو آفت پہنچے۔
قَالَ مَالِك : وَعَلَى ذَلِكَ الْأَمْرُ عِنْدَنَا . قَالَ مَالِك : وَالْجَائِحَةُ الَّتِي تُوضَعُ عَنِ الْمُشْتَرِي الثُّلُثُ فَصَاعِدًا، وَلَا يَكُونُ مَا دُونَ ذَلِكَ جَائِحَةًعلامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک یہی حکم ہے۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ اس آفت سے تہائی مال یا زیادہ کا نقصان ہوا ہو، اگر اس سے کم نقصان ہوگا اس کا شمار نہیں۔