موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب العتق والولاء— کتاب: عتق اور ولاء کے بیان میں
بَابُ مَصِيرِ الْوَلَاءِ لِمَنْ أَعْتَقَ باب: ولاء اسی کو ملے گی جو آزاد کرے گا
وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ وَعَنْ هِبَتِهِ " .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ولاء کی بیع یا ہبہ سے۔
قَالَ مَالِك، فِي الْعَبْدِ يَبْتَاعُ نَفْسَهُ مِنْ سَيِّدِهِ عَلَى أَنَّهُ يُوَالِي مَنْ شَاءَ : إِنَّ ذَلِكَ لَا يَجُوزُ، وَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا أَذِنَ لِمَوْلَاهُ أَنْ يُوَالِيَ مَنْ شَاءَ مَا جَازَ ذَلِكَ، لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " . وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ وَعَنْ هِبَتِهِ "، فَإِذَا جَازَ لِسَيِّدِهِ أَنْ يَشْتَرِطَ ذَلِكَ لَهُ وَأَنْ يَأْذَنَ لَهُ أَنْ يُوَالِيَ مَنْ شَاءَ، فَتِلْكَ الْهِبَةُامام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جو غلام اپنے تئیں مولیٰ سے مول لے لے اس شرط سے کہ میری ولاء جس کو میں چاہوں گا اس کو ملے گی، تو یہ جائز نہیں کیونکہ ولاء اسی کو ملے گی جو آزاد کرے، اور اگر مولیٰ نے غلام کو اجازت دے دی کہ جس سے جی چاہے موالات کا عقد کر لے تو بھی جائز نہ ہوگا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولاء اس کو ملے گی جو آزاد کرے۔“ اور منع کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولاء کی بیع اور ہبہ سے۔ پس اگر مولیٰ کو یہ امر جائز ہو کہ غلام سے ولاء کی شرط کر لے یا اجازت دے جس کو وہ چاہے ولاء ملے، اس صورت میں ولاء کا ہبہ ہو جائے گا۔