موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الطلاق— کتاب: طلاق کے بیان میں
بَابُ مَقَامِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا فِي بَيْتِهَا حَتَّى تَحِلَّ باب: جس عورت کا خاوند مر جائے اس کو عدت تک اسی گھر میں رہنے کا بیان
حدیث نمبر: 1229
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ السَّائِبَ بْنَ خَبَاب تُوُفِّيَ، وَإِنَّ امْرَأَتَهُ جَاءَتْ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، فَذَكَرَتْ لَهُ وَفَاةَ زَوْجِهَا، وَذَكَرَتْ لَهُ حَرْثًا لَهُمْ بِقَنَاةَ، وَسَأَلَتْهُ هَلْ يَصْلُحُ لَهَا أَنْ تَبِيتَ فِيهِ ؟ فَنَهَاهَا عَنْ ذَلِكَ، فَكَانَتْ تَخْرُجُ مِنَ الْمَدِينَةِ سَحَرًا، فَتُصْبِحُ فِي حَرْثِهِمْ، فَتَظَلُّ فِيهِ يَوْمَهَا، ثُمَّ تَدْخُلُ الْمَدِينَةَ إِذَا أَمْسَتْ، فَتَبِيتُ فِي بَيْتِهَا علامہ وحید الزماں
یحییٰ بن سعید کو پہنچا کہ حضرت سائب بن خباب کا انتقال ہو گیا تو ان کی بی بی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آئیں اور اپنے خاوند کا مرنا بیان کیا، اور کہا کہ میری کچھ کھیتی ہے، اگر آپ اجازت دیجیے تو میں رات کو وہاں رہا کروں۔ انہوں نے اس سے منع کیا، تو وہ مدینہ سے صبح کو جاتیں، دن بھر اپنے کھیت میں رہتیں، اور سارا دن وہاں کاٹتیں، شام کو پھر مدینہ میں آ جاتیں، اور رات بھر اپنے گھر میں بسر کرتیں۔