موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الطلاق— کتاب: طلاق کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي عِدَّةِ الْمَرْأَةِ فِي بَيْتِهَا إِذَا طُلِّقَتْ فِيهِ باب: جس گھر میں طلاق ہوئی وہیں عدت کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَهُمَا يَذْكُرَانِ أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ طَلَّقَ ابْنَةَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَكَمِ الْبَتَّةَ، فَانْتَقَلَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَكَمِ، فَأَرْسَلَتْ عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ، فَقَالَتْ : اتَّقِ اللَّهَ، وَارْدُدِ الْمَرْأَةَ إِلَى بَيْتِهَا، فَقَالَ مَرْوَانُ فِي حَدِيثِ سُلَيْمَانَ : إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ غَلَبَنِي، وَقَالَ مَرْوَانُ فِي حَدِيثِ الْقَاسِمِ : أَوَ مَا بَلَغَكِ شَأْنُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ؟ فَقَالَتْ عَائِشَةُ : لَا يَضُرُّكَ أَنْ لَا تَذْكُرَ حَدِيثَ فَاطِمَةَ، فَقَالَ مَرْوَانُ : " إِنْ كَانَ بِكِ الشَّرُّ فَحَسْبُكِ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ مِنَ الشَّرِّ " قاسم بن محمد اور سلیمان بن یسار ذکر کرتے تھے کہ یحییٰ بن سعید نے طلاق دی عبدالرحمٰن بن حکم کی بیٹی کو طلاقِ بتہ۔ ان کے باپ عبد الرحمٰن نے اس مکان سے اٹھوا منگوایا، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مروان کے پاس کہلا بھیجا، ان دنوں میں وہ مدینہ کا حاکم تھا۔ اللہ سے ڈر اور عورت کو اسی گھر میں پہنچا دے جس میں طلاق ہوئی ہے۔ سلیمان کی روایت میں ہے کہ مروان نے کہا: عبدالرحمٰن مجھ پر غالب ہیں (میں ان کو منع نہیں کرسکتا)، اور قاسم کی روایت میں ہے کہ مروان نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: کیا تم کو سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی حدیث یاد نہیں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اگر سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی حدیث تم یاد نہ کرو تو کچھ ضرر نہیں۔ مروان نے کہا: اگر تمہارے نزدیک سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی نقل مکان کرنے کی یہ وجہ تھی کہ جورو اور خاوند میں لڑائی تھی تو وہ وجہ یہاں بھی موجود ہے۔