موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الذبائح— کتاب: ذبیحوں کے بیان میں
بَابُ ذَكَاةِ مَا فِي بَطْنِ الذَّبِيحَةِ باب: ذبیحہ کے پیٹ کے بچہ کی ذکاة کا بیان
حدیث نمبر: 1036
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " إِذَا نُحِرَتِ النَّاقَةُ، فَذَكَاةُ مَا فِي بَطْنِهَا فِي ذَكَاتِهَا، إِذَا كَانَ قَدْ تَمَّ خَلْقُهُ وَنَبَتَ شَعَرُهُ، فَإِذَا خَرَجَ مِنْ بَطْنِ أُمِّهِ، ذُبِحَ، حَتَّى يَخْرُجَ الدَّمُ مِنْ جَوْفِهِ " علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے: جب نحر کی جائے اونٹنی تو اس کے پیٹ کے بچے کی بھی ذکاۃ ہو جائے گی، بشرطیکہ اس بچے کے تمام اعضاء پورے ہو گئے ہوں، اور بال بالکل نکل آئے ہوں، اگر وہ بچہ پیٹ سے زندہ نکل آئے تو اس کا ذبح کرنا ضروری ہے، تاکہ خون اس کے پیٹ سے نکل جائے۔