کتب حدیث › موطا امام مالك رواية ابن القاسم › ابواب › باب: دفینے سے پانچواں حصہ دینا ضروری ہے
❮
❯
19- وبه: عن أبى هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”جرح العجماء جبار والبئر جبار والمعدن جبار. وفي الركاز الخمس.“
حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”چوپایہ جانور (اگر نقصان کرے تو) رائیگاں ہے (اس کا کوئی بدلہ نہیں) کنویں اور معدنیات کا بھی یہی حکم ہے اور مدفون خزانے میں پانچواں حصہ (اللہ کے لئے نکالنا) ہے ۔ “
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 290
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «19- متفق عليه ، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ868/2 ، 869 ، ح 1687 ، ك 43 ب 18 ح 12) التمهيد 19/7 ، الاستذكار : 1616 ، و أخرجه البخاري (1499) ومسلم(1710) من حديث مالك به.»
366- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”إياكم والظن، فإن الظن أكذب الحديث، ولا تحسسوا، ولا تجسسوا، ولا تنافسوا، ولا تحاسدوا، ولا تباغضوا، ولا تدابروا، وكونوا عباد الله إخوانا.“
حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”بدگمانی سے بچو کیونکہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے ، ایک دوسرے کی ٹوہ میں نہ رہو اور جاسوسی نہ کرو ، دنیا کے لئے ایک دوسرے سے نہ جھگڑو اور حسد نہ کرو ، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو اور باہم عداوت رکھتے ہو ئے ایک دوسرے سے منہ نہ موڑو اور اللہ کے بندے بھائی بھائی بن جاؤ ۔“
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 291
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج حدیث «366- متفق عليه ، الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 907/2 ، 908 ح 1749 ، ك 47 ب 4 ح 15) التمهيد 19/18 ، الاستذكار : 1681 ، و أخرجه البخاري (6066) و مسلم (2563) من حديث مالك به .»