کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: نبوت سے قبل نبی کریم ﷺ کی جاہلیت کے کاموں سے عصمت (حفاظت) کا بیان
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبَّار، حدثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، حدثني محمد بن عبد الله بن قيس بن مَخْرَمة، عن الحسن بن محمد بن علي [عن أبيه] (1) عن جدِّه عليِّ بن أبي طالب قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "ما هَمَمْتُ بما كان أهلُ الجاهليّة يَهُمَّون به إِلَّا مَرَّتين مِن الدَّهر، كلاهما يَعصِمُني اللهُ تعالى منهما: قلتُ ليلةً لفتًى كان معي من قُريش في أعلى مكةَ في أغنامٍ لأهلِها تَرْعَى: أَبْصِرْ لي غنمي حتى أسمُرَ هذه الليلةَ بمكةَ كما يَسمُرُ الفِتيانُ، قال: نَعَمْ، فخرجتُ، فلما جئتُ أدنَى دارٍ من دُور مكةَ، سمعتُ غِناءً وصوت دُفوف وزَمِيرًا، فقلتُ: ما هذا؟ قالوا: فلانٌ تزوَّج فلانةَ؛ لرجل من قريش تزوَّج امرأةً، فلَهَوتُ بذلك الغِناء (2) وذلك الصوتِ حتى غَلَبَتْني عَيْني، فنمتُ فما أيقَظَني إلَّا مسُّ الشَّمس، فرجعتُ فسمعتُ مثلَ ذلك، فقيل لي مثلُ ما قيل لي، فلهوتُ بما سمعتُ [حتى] غلبَتْني عيني، فما أيقَظَني إلَّا مَسُّ الشَّمس، ثم رجعتُ إلى صاحبي، فقال: ما فعلتَ؟ فقلتُ: ما فعلتُ شيئًا" قال رسولُ الله ﷺ: "فوالله ما هَمَمتُ بعدَها بسوءٍ ممّا يَعمَلُ أهلُ الجاهلية حتى أكرَمَني اللهُ تعالى بنُبوّتِه" (3).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7619 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7619 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”میں نے زمانہ جاہلیت کے لوگوں والے کاموں کا کبھی ارادہ نہیں کیا سوائے زندگی میں دو مرتبہ کے، اور ان دونوں مرتبہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے محفوظ رکھا۔ ایک رات میں نے قریش کے ایک نوجوان سے، جو مکہ کے بالائی علاقے میں اپنے گھر والوں کی بکریاں چرانے میں میرے ساتھ تھا، کہا: میری بکریوں کی نگرانی کرنا تاکہ میں آج کی رات مکہ میں جا کر اسی طرح قصہ گوئی کی محفلوں میں شرکت کروں جیسے دوسرے نوجوان کرتے ہیں۔ اس نے کہا: ٹھیک ہے، چنانچہ میں نکلا۔ جب میں مکہ کے سب سے قریبی گھر کے پاس پہنچا تو میں نے گانے بجانے، دف کی آواز اور بانسری کے سر سنے۔ میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا: قریش کے ایک شخص کی فلاں عورت سے شادی ہو رہی ہے۔ میں اس گانے اور آواز کی محفل میں مگن ہو گیا یہاں تک کہ میری آنکھ لگ گئی اور میں سو گیا، مجھے سورج کی حدت نے ہی بیدار کیا۔ میں (اگلے دن) واپس گیا تو میں نے پھر ویسے ہی آوازیں سنیں اور مجھے ویسا ہی بتایا گیا، میں پھر اسے سننے میں مشغول ہوا یہاں تک کہ مجھ پر نیند غالب آ گئی اور مجھے سورج کی گرمی نے ہی جگایا۔ پھر میں اپنے ساتھی کے پاس واپس پہنچا تو اس نے پوچھا: تم نے کیا کیا؟ میں نے کہا: میں نے کچھ نہیں کیا۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”خدا کی قسم! اس کے بعد میں نے کبھی اہل جاہلیت والے کسی برے کام کا ارادہ نہیں کیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے نبوت کے اعزاز سے سرفراز فرمایا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا رَوْح بن عُبَادة، حدثنا زكريا بن إسحاق، حدثنا عمرو بن دينار، عن عطاء، عن ابن عباس في قول الله ﷿: ﴿الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ إِلَّا اللَّمَمَ﴾ [النجم: 32] قال: هو الرجل يُصِيبُ الفاحشةُ يُلِمُّ بها، ثم يتوبُ منها (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7620 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7620 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ إِلَّا اللَّمَمَ﴾ [سورة النجم: 32] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا: «اللَّمَمَ» سے مراد وہ شخص ہے جو کسی گناہ یا بے حیائی کے کام میں ملوث ہو جائے، پھر اس سے توبہ کر لے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن سِنَان القزَّاز، حدثنا أبو عامر عبد الملك بن عمرو العَقَدي، حدثنا عبد الحميد بن عبد الله بن كَثير المكي، حدثنا سعيد بن ميناء قال: كنتُ عند أبي هريرة، فقلتُ: يا أبا هريرة: ﴿الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ … ﴾، فما اللَّمَمُ؟ قال: كلُّ شيءٍ ما لم يَدخُل المِرْوَدُ في المُكْحُلة، فإِذا دَخَل فذلك الزِّنى (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7621 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7621 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، راوی کہتے ہیں کہ میں ان کے پاس تھا تو میں نے عرض کیا: اے ابوہریرہ! اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد ﴿الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ﴾ [سورة النجم: 32] میں «اللَّمَمُ» (چھوٹے گناہ) سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے جواب دیا: (زنا کے مقدمات میں سے) ہر وہ چیز «اللَّمَمُ» ہے جب تک کہ ”سرمہ دانی میں سلائی نہ داخل ہو جائے“، پس جب وہ داخل ہو گئی تو پھر وہ زنا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔