کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: نبی کریم ﷺ کو کھانوں میں "ثرید" سب سے زیادہ پسند تھا
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن شاذان الجَوهَري، حدثنا سعيد بن سليمان الواسطي، حدثنا عبَّاد بن العوّام، عن حُميد، عن أنس: أنَّ النبيَّ ﷺ كان يُعجبُه الثُّفْلُ (1). فسمعتُ أبا محمد (2) يقول: سمعتُ أبا بكر محمد بن إسحاق يقول: الثُّفْل: هو الثَّريد (3).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کو ”ثفل“ بہت پسند تھا۔ ابومحمد کہتے ہیں کہ میں نے ابوبکر محمد بن اسحاق کو یہ کہتے سنا کہ ”ثفل“ سے مراد ثرید (شوربے میں بھیگی ہوئی روٹی) ہے۔
وحدثنا علي بن حَمْشاذَ، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا الحضرمي محمد بن شُجاع، أخبرنا المبارك بن سعيد، عن عمر بن سعيد، عن عِكْرمة، عن ابن عباس قال: كان أحبَّ الطعامِ إلى رسولِ الله ﷺ الشَّرِيدُ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، فإنَّ عمر بن سعيد هذا أخو سفيان والمبارك ابنَي سعيد. فأما قولُه ﷺ: "فضلُ عائشةَ على النساء كفضل الثَّريد على سائر الطعام"، فإنه مخرَّج في "الصحيحين" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7117 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، فإنَّ عمر بن سعيد هذا أخو سفيان والمبارك ابنَي سعيد. فأما قولُه ﷺ: "فضلُ عائشةَ على النساء كفضل الثَّريد على سائر الطعام"، فإنه مخرَّج في "الصحيحين" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7117 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو تمام کھانوں میں سب سے زیادہ ”ثرید“ (شوربے میں تری کی گئی روٹی) پسند تھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، بیشک عمر بن سعید نامی راوی سفیان اور مبارک بن سعید کے بھائی ہیں۔ رہا نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان کہ ”عائشہ کی فضیلت تمام عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید کی فضیلت تمام کھانوں پر ہے“ تو وہ صحیحین میں مروی ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، بیشک عمر بن سعید نامی راوی سفیان اور مبارک بن سعید کے بھائی ہیں۔ رہا نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان کہ ”عائشہ کی فضیلت تمام عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید کی فضیلت تمام کھانوں پر ہے“ تو وہ صحیحین میں مروی ہے۔