کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیعتِ رضوان والوں میں سے تھے
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مَرزُوق، حدثنا وهب بن جَرِير، حدثنا شُعبة، عن عمرو بن مُرَّة، عن عبد الله بن أبي أَوفى، وكان من أصحاب الشَّجرة (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اصحابِ شجرہ (بیعتِ رضوان والے خوش نصیب صحابہ) میں سے تھے۔
أخبرني الحسن بن حَلِيم (1) المروَزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدانُ، أخبرنا عبد الله، أخبرنا حَشرَجُ بن نُبَاتةَ، أخبرنا سعيد بن جُمْهانَ قال: أَتيتُ عبدَ الله ابن أبي أَوفى صاحبّ النبي ﷺ، فسلَّمتُ عليه وهو محجوبُ البصر، فقال لي: من أنت؟ قلت: أنا سعيدُ بن جُمْهان، قال: فما فَعَلَ والدك؟ قلت: قَتَلَته الأزارقةُ، قال: لَعَنَ اللهُ الأزارقةَ، حدَّثَنا رسول الله ﷺ أنَّهم كِلابُ النار (2). ذكرُ سَهْل بن سعد الساعدي ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6435 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6435 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سعید بن جمہان سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے صحابی سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور انہیں سلام کیا جبکہ وہ نابینا ہو چکے تھے، انہوں نے مجھ سے پوچھا: ”تم کون ہو؟“ میں نے عرض کیا: میں سعید بن جمہان ہوں، انہوں نے پوچھا: ”تمہارے والد کا کیا حال ہے؟“ میں نے عرض کیا: انہیں ازارقہ (خوارج کا ایک فرقہ) نے شہید کر دیا ہے، انہوں نے فرمایا: ”اللہ ازارقہ پر لعنت فرمائے، ہمیں رسول اللہ ﷺ نے یہ حدیث بیان فرمائی تھی کہ وہ جہنم کے کتے ہیں۔“