حَدَّثَنَا أبو بكر أحمد بن سلْمان الفقيه، حَدَّثَنَا محمد بن الهيثم القاضي، حَدَّثَنَا الهيثم بن جَميل الأنطاكي، حَدَّثَنَا شَريك، عن أبي المُحجَّل، عن صَدَقة بن أبي عمران [عن عِمران] (1) بن حِطّان، قال: أتيتُ أبا ذرٍّ فوجدتُه في المسجد مُحتبيًا بكِساءٍ أسودَ وحدَه، فقلتُ: يا أبا ذرٍّ، ما هذه الوَحْدةُ؟ فقال: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "الوحدةُ خَيرٌ من جَليسِ السُّوء، والجليسُ الصالح خيرٌ من الوَحْدة، وإملاءُ الخيرِ خيرٌ من السُّكوت، والسكوتُ خيرٌ من إملاءِ الشَّرِّ" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5466 - لم يصح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5466 - لم يصح
حافظ طلحہ بابر
عمران بن حطان سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو میں نے انہیں مسجد میں تنہا ایک سیاہ چادر اوڑھے گوٹھ مارے بیٹھے دیکھا۔ میں نے پوچھا: ”اے ابوذر! یہ تنہائی کیسی ہے؟“ انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”تنہائی برے ہم نشین سے بہتر ہے، اور نیک ہم نشین تنہائی سے بہتر ہے، بھلائی کی بات لکھوانا (یا بولنا) خاموشی سے بہتر ہے، اور خاموشی برائی کی بات لکھوانے (یا بولنے) سے بہتر ہے۔“
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا الحسن بن علي بن عفَّان، حَدَّثَنَا أبو يحيى الحِمّاني، عن الأعمش، عن شِمْر بن عَطِيَّة، عن شَهْر بن حَوشَبٍ، عن عبد الرحمن بن غَنْم، قال: كنتُ مع أبي الدَّرْداء، فجاء رجلٌ من قِبَل المدينةِ، فساء لَهُ، فأخبره أن أبا ذرٍّ سُيِّر إلى الرَّبَذة، فقال أبو الدَّرْداء: إنا لله وإنا إليه راجِعُون، لو أنَّ أبا ذرٍّ قَطَع لي عُضوًا أو يدًا ما هَجَّنْتُه بعدما سمعتُ النَّبِيّ ﷺ يقول: "ما أظلَّتِ الخَضْراءُ، ولا أقلّتِ الغَبْراءُ من رجُل أصدقَ لَهْجةً من أبي ذرٍّ" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5467 - سنده جيد
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5467 - سنده جيد
حافظ طلحہ بابر
عبدالرحمٰن بن غنم سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کے پاس تھا کہ مدینہ کی طرف سے ایک شخص آیا، اس نے انہیں ایک بری خبر سنائی اور بتایا کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کو مقامِ ربذہ کی طرف جلاوطن کر دیا گیا ہے۔ اس پر ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”«إنا لله وإنا إليه راجعون» (ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں)، اگر ابوذر میرا کوئی عضو یا ہاتھ بھی کاٹ دیتے تو بھی میں انہیں برا بھلا نہ کہتا، کیونکہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”نیلے آسمان نے کسی ایسے شخص پر سایہ نہیں کیا اور خاکی زمین نے کسی ایسے شخص کو نہیں اٹھایا جو ابوذر سے بڑھ کر سچی زبان والا ہو۔“
حَدَّثَنَا أبو بكر أحمد بن كامل بن خَلَف القاضي، حَدَّثَنَا أبو قِلابة بنُ الرَّقَاشِي، حَدَّثَنَا سعيد بن عامر، حَدَّثَنَا أبو عامر - وهو صالح بن رُستُم الخَزّاز - عن حُميد بن هلال، عن عبد الله بن الصامِت، قال: قالت أمُّ ذرّ: والله ما سيَّرَ عثمانُ أبا ذرٍّ، ولكنَّ رسولَ الله ﷺ قال: "إذا بَلَغَ البِناءُ سَلْعًا فاخرُجْ منها". قال أبو ذرٍّ: فلما بلغ البِناءُ سَلْعًا وجاوزَ، خرجَ أبو ذرٍّ إلى الشامِ؛ وذكر باقيَ الحديثِ بطُوله (1).
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. والحديث المفسَّر في هذا الباب حديثُ الأعمش عن أبي وائل عن حَلّام بن جَزْلٍ (1) الغِفاري، تَركتُه لألفاظٍ فيه، ولِطُوله أيضًا، واقتصرتُ على الإسنادَين الصحيحَين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5468 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. والحديث المفسَّر في هذا الباب حديثُ الأعمش عن أبي وائل عن حَلّام بن جَزْلٍ (1) الغِفاري، تَركتُه لألفاظٍ فيه، ولِطُوله أيضًا، واقتصرتُ على الإسنادَين الصحيحَين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5468 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
عبداللہ بن صامت سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ام ذر رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ابوذر رضی اللہ عنہ کو جلاوطن نہیں کیا تھا، بلکہ رسول اللہ ﷺ نے (انہیں) فرمایا تھا: ”جب (مدینہ کی) عمارتیں سلع (پہاڑی) تک پہنچ جائیں تو تم وہاں سے نکل جانا۔“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب عمارتیں سلع تک پہنچ گئیں اور اس سے بھی آگے بڑھ گئیں تو ابوذر رضی اللہ عنہ شام کی طرف نکل گئے۔ اور راوی نے باقی طویل حدیث ذکر کی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح الاسناد ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور اس باب میں مفصل حدیث اعمش کی ہے جو انہوں نے ابو وائل سے اور انہوں نے حلام بن جزل غفاری سے روایت کی ہے، جسے میں نے اس کے بعض الفاظ اور طوالت کی وجہ سے چھوڑ دیا ہے اور صرف دو صحیح اسناد پر اکتفا کیا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح الاسناد ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور اس باب میں مفصل حدیث اعمش کی ہے جو انہوں نے ابو وائل سے اور انہوں نے حلام بن جزل غفاری سے روایت کی ہے، جسے میں نے اس کے بعض الفاظ اور طوالت کی وجہ سے چھوڑ دیا ہے اور صرف دو صحیح اسناد پر اکتفا کیا ہے۔