کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہیں
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، قال: حدثني أبي، حدَّثنا وهب بن جَرير، قال: حدثني أبي، عن محمد بن عبد الله بن أبي يعقوب، عن الحسن بن سعد، عن عبد الله بن جعفر: أنَّ رسول الله ﷺ لما نَعَى أهلَ مُؤتةَ قال: "ثم أخذَ الرايةَ سَيفٌ من سُيوفِ الله خالدُ بنُ الوليد، ففَتَحَ اللهُ عليه" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5295 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5295 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب جنگِ موتہ کے شرکاء کی شہادت کی خبر دی تو فرمایا: ”پھر جھنڈا اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار خالد بن ولید نے تھام لیا اور اللہ نے ان کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
وقد أخبرَناهُ أبو عبد الله محمد بن علي الصَّنْعاني بمكة، حدَّثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، عن مَعمَر، عن أيوب، عن أنس بن مالك، قال: نَعَى رسولُ الله ﷺ أهلَ مُؤتةَ على المِنبَر، ثم قال: "فأخذ اللواءَ خالدُ بن الوليد، وهو سَيفٌ من سُيوف الله" (1).
هذا حديث عالٍ صحيح غَريب من حديث أيوب، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5296 - لم يسمع أيوب من أنس
هذا حديث عالٍ صحيح غَريب من حديث أيوب، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5296 - لم يسمع أيوب من أنس
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منبر پر اہلِ موتہ کی شہادت کی خبر دی، پھر فرمایا: ”پھر جھنڈا خالد بن ولید نے پکڑ لیا اور وہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہیں۔“
یہ عالی سند والی حدیث صحیح اور ایوب کی روایت سے غریب ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ عالی سند والی حدیث صحیح اور ایوب کی روایت سے غریب ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدَّثَناه علي بن حَمْشاذ، حدَّثنا الحسن بن علي بن شَبيب المَعْمَري، حدَّثنا الربيع بن ثعلب، حدَّثنا أبو إسماعيل المؤدِّب، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن الشَّعْبي، عن عبد الله بن أبي أوفَى، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "لا تُؤذوا خالدًا فإنه سيفٌ من سُيوفِ الله، صَبَّه على الكفار" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5297 - مرسلا وهو أشبه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5297 - مرسلا وهو أشبه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”خالد کو تکلیف نہ دو کیونکہ وہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے جسے اس نے کافروں پر مسلط کیا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو العباس إسماعيل بن عبد الله، أخبرنا عَبْدانُ الأهوازِي، حدَّثنا أبو السُّكَين زكريا بن يحيى الطائي، حدَّثنا عمُّ أَبي زَحْرُ بن حِصْن، قال: حدثني حُميد بن مُنهِب، قال: قال جدي [خُرَيم بن] (1) أوس بن حارثة بن لأْم (2): لم يكن أحدٌ أعدَى للعربِ من هُرمُزَ، فلما فَرَغْنا من مُسيلِمة وأصحابِه أقبلنا إلى ناحية البصرة، فلقِينا هُرمُزَ بكاظمةٍ في جمع عظيم، فبَرَزَ له خالدُ بنُ الوليد، ودعا إلى البِراز، فبرز له هُرمزُ فقتلَه خالدُ بنُ الوليد، وكتب بذلك إلى أبي بكر الصِّدِّيق، فنفَّلَه سَلَبَه، فبلغت قَلَنسُوَةٌ هُرمُزَ مئةَ ألفِ دِرهَم، وكانت الفرسُ إِذا شَرفَ الرجلُ جعلوا قَلَنسُوَتَه بمئةِ ألفِ درهم (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5298 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5298 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
خریم بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عربوں کے لیے ہرمز سے بڑھ کر کوئی دشمن نہ تھا، جب ہم مسیلمہ کذاب اور اس کے ساتھیوں سے فارغ ہوئے تو ہم بصرہ کی جانب بڑھے اور کاظمہ کے مقام پر ایک عظیم لشکر کے ساتھ ہرمز سے ہمارا مقابلہ ہوا، سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ مقابلے کے لیے نکلے اور اسے مبارزت کی دعوت دی، ہرمز سامنے آیا تو خالد بن ولید نے اسے قتل کر دیا اور اس کی اطلاع سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجی، انہوں نے مقتول کا سامان بطورِ انعام خالد رضی اللہ عنہ کو دے دیا، ہرمز کی ٹوپی کی قیمت ایک لاکھ درہم نکلی، اور اہل فارس میں یہ طریقہ تھا کہ جب کوئی شخص بلند مرتبہ ہوتا تو اس کی ٹوپی ایک لاکھ درہم کی بنائی جاتی تھی۔
حدثني علي بن عيسى، أخبرنا أحمد بن نَجْدة، حدَّثنا سعيدٌ بن منصور، حدَّثنا هُشَيم، حدَّثنا عبد الحميد بن جعفر، عن أبيه: أنَّ خالد بن الوليد فَقَدَ قَلَنسُوَةً له يومَ اليرموك فقال: اطلُبوها، فلم يَجِدُوها، ثم طَلَبُوها فوجدُوها، وإذا هي قَلَنَسُوَةٌ خَلَقَةٌ، فقال خالد: اعتمَر رسولُ الله ﷺ فحلَقَ رأسَه، وابتدَرَ الناسُ جوانبَ شعره، فسبَقتُهم إلى ناصيتِه فجعلتُها في هذه القَلَنسُوَة، فلم أشهد قتالًا وهي معي إِلَّا رُزِقتُ النصرَ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5299 - منقطع
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5299 - منقطع
حافظ طلحہ بابر
عبد الحمید بن جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جنگِ یرموک کے دن سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی ٹوپی گم ہو گئی، انہوں نے کہا: اسے تلاش کرو، لوگوں نے ڈھونڈا مگر نہ ملی، دوبارہ تلاش کی گئی تو مل گئی، دیکھا تو وہ ایک پرانی سی ٹوپی تھی، اس پر خالد رضی اللہ عنہ نے بتایا: رسول اللہ ﷺ نے عمرہ کیا تو اپنا سرِ مبارک منڈوایا، لوگ آپ کے بال مبارک لینے کے لیے لپکے تو میں نے سبقت کر کے آپ کی پیشانی کے بال حاصل کر لیے اور انہیں اس ٹوپی میں رکھ لیا، چنانچہ میں جس لڑائی میں بھی شریک ہوا اور یہ ٹوپی میرے پاس تھی تو مجھے فتح و نصرت نصیب ہوئی۔