کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی وفات پر کہے گئے مرثیہ اشعار
حَدَّثَنَا أبو سهل بن زياد القطان إملاءً، حَدَّثَنَا أبو قِلابة، حَدَّثَنَا أبي، حَدَّثَنَا جعفر بن سليمان، عن مالك (1) بن دينار، قال: سُمِع صوتٌ بجبل تَبَالةَ حين قُتل عمر بن الخطاب: لِيَبكِ على الإسلام مَن كان باكيًا … فقد أوشَكُوا هَلْكى وما قَدُمَ العَهدُ وأدبَرتِ الدنيا وأدبَرَ خَيرُها … وقد مَلَّها مَن كان يُوقِنُ بالوَعِدِ (2) فنظروا فلم يروا شيئًا (1).
حافظ طلحہ بابر
مالک بن دینار سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو جبلِ تبالہ سے ایک غیبی پکارنے والے کی آواز سنی گئی: ”جو رونے والا ہے وہ اسلام پر روئے، کیونکہ لوگ ہلاکت کے قریب ہیں جبکہ ابھی (عمر رضی اللہ عنہ کا) عہد پرانا نہیں ہوا تھا، دنیا پیٹھ پھیر گئی ہے اور اس کی بھلائی رخصت ہوگئی ہے، اور وہ شخص دنیا سے اکتا گیا ہے جو اللہ کے وعدے پر یقین رکھتا تھا۔“ پس لوگوں نے ادھر ادھر دیکھا مگر انہیں کوئی چیز نظر نہ آئی۔
حَدَّثَنَا أبو سهل بن زياد، حَدَّثَنَا أبو قِلابة، حَدَّثَنَا أشهَلُ بن حاتم، حَدَّثَنَا ابن عَون، عن الشَّعْبي قال: ورَثَت عاتِكةُ بنت زيد بن عمرو بن نُفَيل عُمرَ فقالت: عينُ (2) جُودِي بعَبرةٍ ونَحيبِ … لا تَمَلِّي على الإمام الصَّليبِ فَجَّعَتْني المَنُونُ بالفارسِ المُعْ … لم يومَ الهِيَاجِ والتأْييبِ عِصْمةُ الدِّين والمُعِينُ على الدَّه … رِ وغيثُ المَلهُوفِ والمَكرُوبِ قل لأهل الضَّرَّاءِ والبُؤسِ: مُوتُوا … إِذ سَقَتْه المَنُونُ كأسَ شَعُوبِ وقالت عاتكة أيضًا: فَجَّعَني (3) فَيرُوزُ لا دَرَّ دَرُّهُ … بأبيضَ تالٍ للكتابٍ مُنيبِ رؤوفٍ على الأدنى غَليظٍ على العِدَى … أخي ثقةٍ في النائبات نَجيبِ متى ما يقُلْ لا يُكذِبِ القولَ فعلُهُ … سريعٍ إلى الخَيرات غيرِ قَطُوبِ (4) حديث الشُّورى مُخرَّج في "الصحيحين"، لكني قد أوردتُ هاهنا أحرفًا صحيحةً الإسنادِ مُفيدةً غريبةً.
حافظ طلحہ بابر
شعبی سے روایت ہے کہ عاتکہ بنت زید بن عمرو بن نفیل نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا مرثیہ پڑھتے ہوئے کہا: ”اے میری آنکھ! کثرت سے آنسو بہا اور خوب رو، اس مضبوط امام پر (رونے میں) سستی نہ کر، موت نے مجھے اس شاہسوار کے چھن جانے کا دکھ دیا جو جنگ اور حملے کے دن صف اول کا غازی تھا، وہ دین کی جائے پناہ اور وقت کی سختیوں پر معاون تھا اور پسماندہ و دکھی لوگوں کے لیے رحمت کی بارش کی طرح تھا، تکلیف اور فقر زدہ لوگوں سے کہہ دو کہ اب وہ مر جائیں کیونکہ موت نے عمر کو «شَعُوبِ» ”موت“ کا پیالہ پلا دیا ہے۔“ نیز عاتکہ رضی اللہ عنہا نے یہ بھی کہا: ”فیروز (ابولولو) نے مجھے اس گورے رنگ والے شخص کے بارے میں غمزدہ کر دیا، اللہ اسے خیر نہ دے، جو کثرت سے کتاب اللہ کی تلاوت کرنے والے اور اللہ کی طرف رجوع کرنے والے تھے، وہ اپنے قریبیوں پر نہایت مہربان اور دشمنوں پر سخت تھے، مصیبتوں کے وقت ایک قابلِ اعتماد اور شریف بھائی تھے، جب بھی وہ کوئی بات کہتے تو ان کا فعل اس قول کی تکذیب نہیں کرتا تھا، وہ نیکیوں کی طرف تیزی سے لپکنے والے تھے اور ان کے چہرے پر کبھی ترش روئی نہیں ہوتی تھی۔“
امام حاکم فرماتے ہیں: قصہ شوریٰ کی حدیث صحیحین میں موجود ہے، لیکن میں نے یہاں چند ایسی روایات ذکر کی ہیں جن کی اسناد صحیح ہیں اور وہ مفید و نادر معلومات پر مشتمل ہیں۔
امام حاکم فرماتے ہیں: قصہ شوریٰ کی حدیث صحیحین میں موجود ہے، لیکن میں نے یہاں چند ایسی روایات ذکر کی ہیں جن کی اسناد صحیح ہیں اور وہ مفید و نادر معلومات پر مشتمل ہیں۔
حَدَّثَنَا أحمد بن يعقوب الثقفي ومحمد بن أحمد الجَلّاب، قالا: حَدَّثَنَا الحسن بن علي بن شَبيب المَعْمَري، حَدَّثَنَا محمد بن الصَّبَّاح، حَدَّثَنَا عبد العزيز بن محمد، عن عُمر مولى غُفرة، عن محمد بن كعب، عن ابن عمر، قال: قال عمر لأصحاب الشُّورى: لله دَرُّهم لو وَلَّوها الأُصيلِعَ كيف يَحمِلُهم على الحقِّ وإِن حُمِل على عُنقه بالسَّيف، قال: فقلتُ: تعلمُ ذلك منه ولا تُولِّيه، قال: إن أستخلِفْ فقد استخلَفَ مَن هو خيرٌ مني، وإن أترُكْ [فقد ترك مَن هو خيرٌ مني (1)] (2). ومن فضائل أميرِ المؤمنين ذي النُّورَين عثمانَ بن عفّان ﵁ -
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اصحابِ شوریٰ سے فرمایا: ”اللہ ان (صحابہ) کا بھلا کرے، اگر وہ اس «اُصيلِع» کو خلیفہ بنا دیں تو وہ انہیں حق کے راستے پر چلائیں گے، خواہ ان کی گردن پر تلوار ہی کیوں نہ رکھ دی جائے۔“ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: ”آپ یہ بات ان کے بارے میں جانتے ہیں تو پھر انہیں خلیفہ کیوں نہیں بنا دیتے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”اگر میں خلیفہ مقرر کروں تو (میرے لیے اس کی گنجائش ہے کیونکہ) اس ہستی نے بھی خلیفہ مقرر کیا تھا جو مجھ سے بہتر تھی (یعنی ابوبکر صدیق)، اور اگر میں (یہ معاملہ شوریٰ پر) چھوڑ دوں تو (اس کی بھی گنجائش ہے کیونکہ) اس ہستی نے بھی اسے چھوڑ دیا تھا جو مجھ سے بہتر تھی (یعنی رسول اللہ ﷺ)۔“
امیر المؤمنین ذوالنورین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے فضائل کا تذکرہ۔
امیر المؤمنین ذوالنورین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے فضائل کا تذکرہ۔