حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكير، عن ابن إسحاق، قال: كان اسمُ النَّجَاشِيّ: مصحمة (1)، وهو بالعربية: عَطِيَّة، وإنما النجاشيُّ اسمُ الملِكِ، كقولك: كِسْرى وهِرَقْل. قال ابن إسحاق: هذا كتابٌ من النبيِّ مُحمدٍ ﷺ إلى النَّجَاشِيِّ: "بسم الله الرحمن الرحيم، هذا كتابُ محمدٍ رسولِ الله إلى النجاشيِّ الأصْحَمِ عظيمِ الحَبَشِ، سلامٌ على مَن اتَّبَعَ الهُدى، وآمَنَ باللهِ ورسولِه وشَهِدَ أن لا إله إلّا الله وحدَه لا شَرِيكَ له، لم يَتَّخِذ صاحِبَةً ولا ولدًا، وأنَّ محمدا عبده ورسولُه، أدعُوك بدُعاء الله، فإني أنا رسولُ الله، فأسْلِمْ تَسْلَمْ: ﴿يَاأَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ﴾ الآية [آل عِمران: 64]، فإن أبَيتَ فعَلَيكَ إثمُ النَّصارى" (2). لم يتابَع محمد بن إسحاق القُرَشيّ على اسم النَّجَاشِي أَنه مَصْحَمة، فإِنَّ الأخبارَ الصحيحة المُخرَّجة في الكتابَين الصحيحَين بالألف، والكتاب إليه في كتابِ رسول الله.
حافظ طلحہ بابر
ابن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ نجاشی کا نام «مصحمہ» تھا، جس کا عربی میں مفہوم «عطیہ» (تحفہ) ہے، اور نجاشی دراصل بادشاہ کا لقب ہے جیسے کسریٰ اور ہرقل کہے جاتے ہیں۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ یہ نبی کریم ﷺ کا نجاشی کے نام تحریر کردہ خط ہے: ”بسم اللہ الرحمن الرحیم، یہ اللہ کے رسول محمد (ﷺ) کی طرف سے حبشہ کے عظیم بادشاہ نجاشی اصحم کے نام ہے، اس پر سلام ہو جو ہدایت کی پیروی کرے، اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اس نے نہ کسی کو اپنی شریکِ حیات (بیوی) بنایا اور نہ ہی کسی کو بیٹا، اور یہ کہ محمد (ﷺ) اس کے بندے اور رسول ہیں، میں تمہیں اللہ کی طرف بلاتا ہوں کیونکہ میں اللہ کا رسول ہوں، پس اسلام لے آؤ سلامتی پاؤ گے: ﴿يَاأَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ﴾ [سورة آل عمران: 64]، پھر اگر تم نے پیٹھ پھیری (انکار کیا) تو تم پر نصاریٰ (کے بھٹکنے) کا گناہ ہو گا“۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ نجاشی کا نام «مصحمہ» بتانے میں محمد بن اسحاق اکیلے ہیں اور کسی نے ان کی تائید نہیں کی، کیونکہ بخاری و مسلم میں مروی صحیح روایات میں ان کا نام الف کے ساتھ (اصحمہ) مذکور ہے، اور رسول اللہ ﷺ کے خط میں بھی یہی نام تحریر ہے۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ نجاشی کا نام «مصحمہ» بتانے میں محمد بن اسحاق اکیلے ہیں اور کسی نے ان کی تائید نہیں کی، کیونکہ بخاری و مسلم میں مروی صحیح روایات میں ان کا نام الف کے ساتھ (اصحمہ) مذکور ہے، اور رسول اللہ ﷺ کے خط میں بھی یہی نام تحریر ہے۔
حدثنا أبو الحسين محمد بن أحمد بن تَمِيم القَنْطري ببغداد، حدثنا جعفر بن محمد بن شاكِر، حدثنا خالد بن يزيد القَرْني، حدثنا حُدَيج بن مُعاوية، حدثنا أبو إسحاق، عن عبد الله بن عُتْبة، عن عبد الله بن مسعود، قال: بَعَثَنا رسولُ الله ﷺ إلى النَّجَاشيّ ونحن نحوٌ من ثَمانين رجلًا، فذكر الحديثَ بطُوله (1)، كما أخرجتُه في "التفسير" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وليعلم طالبُ العلم أنَّ النجاشي كان مشركًا قبل وُرُودِ أصحابِ رسول الله ﷺ بكِتابِه عليه الدليلُ على ذلك إخراجُهما في "الصحيحين" عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة: أنَّ أم سَلمَة وأم حَبيبةَ ذَكَرتا كَنِيسةً، وأنها بأرضِ الحَبَشِةِ، فيها تَصاويرُ، الحديث (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وليعلم طالبُ العلم أنَّ النجاشي كان مشركًا قبل وُرُودِ أصحابِ رسول الله ﷺ بكِتابِه عليه الدليلُ على ذلك إخراجُهما في "الصحيحين" عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة: أنَّ أم سَلمَة وأم حَبيبةَ ذَكَرتا كَنِيسةً، وأنها بأرضِ الحَبَشِةِ، فيها تَصاويرُ، الحديث (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نجاشی کی طرف روانہ فرمایا جبکہ ہم تعداد میں تقریباً اسی (80) افراد تھے، پھر انہوں نے پوری طویل حدیث بیان کی جیسا کہ میں نے اسے اپنی کتاب ”تفسیر“ میں نقل کیا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ طالبِ علم کو یہ بات جان لینی چاہیے کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے خط لے کر پہنچنے سے پہلے نجاشی مشرک تھے، اور اس بات پر دلیل وہ روایت ہے جو شیخین نے صحیحین میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کی ہے کہ سیدہ ام سلمہ اور سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہما نے حبشہ کی ایک ایسی کنيسہ (گرجا گھر) کا تذکرہ کیا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں، جیسا کہ حدیث میں مذکور ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ طالبِ علم کو یہ بات جان لینی چاہیے کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے خط لے کر پہنچنے سے پہلے نجاشی مشرک تھے، اور اس بات پر دلیل وہ روایت ہے جو شیخین نے صحیحین میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کی ہے کہ سیدہ ام سلمہ اور سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہما نے حبشہ کی ایک ایسی کنيسہ (گرجا گھر) کا تذکرہ کیا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں، جیسا کہ حدیث میں مذکور ہے۔