کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: اللہ کے نبی حضرت سلیمان بن داود علیہما السلام کا ذکر اور وہ سلطنت جو اللہ نے انہیں عطا فرمائی
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الفضل بن محمد بن المسيَّب إملاءً بانتِقاء أبي بكر محمد بن إسحاق بن خُزَيمة، حدثنا إبراهيم بن المنذر الحِزامي، حدثنا حسين بن زيد بن علي، حدثني شِهاب بن عبدِ ربِّه، عن عمر بن علي بن حسين، قال: مَشَيتُ مع عمي محمد بن علي بن الحسين (2) فقلتُ: زَعَمَ الناسُ أنَّ سليمان بن داود سألَ ربَّه أن يَهَبَ له مُلكًا لا ينبغي لأحدٍ مِن بعده، وأَنْهى العِشْرين، فقال: ما أَدري ما أحاديثُ الناس، ولكن حدثني أبي عليُّ بن الحسين، عن أبيه، عن علي، عن النبي ﷺ، قال: "لن (3) يُعمِّرَ اللهُ مَلِكًا في أُمّةِ نبيٍّ مضى قبلَه ما بَلَغَ ذلك النبيُّ من العُمُر في أمّتِه" (4).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4137 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
عمر بن علی بن حسین سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں اپنے چچا محمد بن علی بن حسین کے ساتھ چل رہا تھا تو میں نے کہا: ”لوگوں کا خیال ہے کہ سلیمان بن داود علیہما السلام نے اپنے رب سے ایسی بادشاہت مانگی جو ان کے بعد کسی کے لائق نہ ہو، اور انہوں نے بیس کی انتہا کر دی۔“ تو انہوں نے کہا: ”مجھے نہیں معلوم کہ لوگوں کی کیا باتیں ہیں، لیکن مجھے میرے والد علی بن حسین نے اپنے والد سے، انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے بیان کیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کسی پہلے گزر چکے نبی کی امت کے کسی بادشاہ کو ہرگز اتنی عمر نہیں دے گا جتنی عمر اس نبی نے اپنی امت میں گزاری ہو۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين / حدیث: 4182
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لجهالة شهاب بن عبد ربّه
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لجهالة شهاب بن عبد ربّه، وحسين بن زيد بن علي قال ابن المديني: فيه ضعف.» [ترقيم الرساله 4182] [ترقيم الشركة 4159] [ترقيم العلميه 4137]
حدثنا علي بن عيسى، حدثنا أبو يحيى زكريا بن داود، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا عبد الرحمن بن محمد المُحاربي، عن أشعثَ، عن أبي إسحاق، عن مُرّة، عن ابن مسعود، في قوله ﷿: ? ﴿وَدَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِي الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ﴾ [الأنبياء: 78]، قال: كَرْمٌ قد أَنبتَتْ عناقيدُه فأفسدَتْه، قال: فقضى داودُ بالغنم لصاحب الكَرْم، فقال سليمان: غيرُ هذا يا نبيَّ الله؟ قال: وما ذاك؟ قال: تدفعُ الكَرْمَ إلى صاحب الغَنَم، فيقومُ عليه حتى يعودَ كما كان، وتدفَعُ الغنمَ إلى صاحبِ الكَرْم فيُصيب منها، حتى إذا كان الكرمُ كما كان، دفعتَ الكَرْمَ إلى صاحبِه، ودفعتَ الغنمَ إلى صاحبِها، قال الله ﷿: ﴿فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ وَكُلًّا آتَيْنَا حُكْمًا وَعِلْمًا﴾ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4138 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَدَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِي الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ﴾ [سورة الأنبياء: 78] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا: ”وہ انگوروں کا ایک باغ تھا جس کے خوشے نکل آئے تھے، پس بکریوں نے اسے خراب کر دیا۔“ انہوں نے مزید کہا: ”تو داود علیہ السلام نے فیصلہ کیا کہ بکریاں باغ والے کو دے دی جائیں، اس پر سلیمان علیہ السلام نے عرض کیا: ”اے اللہ کے نبی! کیا اس کے علاوہ کوئی اور فیصلہ ہو سکتا ہے؟“ داود علیہ السلام نے پوچھا: ”وہ کیا؟“ سلیمان علیہ السلام نے کہا: ”آپ انگوروں کا باغ بکریوں والے کے حوالے کر دیں تاکہ وہ اس کی دیکھ بھال کرے یہاں تک کہ وہ پہلے جیسی حالت میں واپس آ جائے، اور بکریاں باغ والے کے حوالے کر دیں تاکہ وہ ان سے فائدہ اٹھائے، پھر جب انگوروں کا باغ اپنی اصلی حالت پر آ جائے تو آپ باغ اس کے مالک کو اور بکریاں ان کے مالک کو لوٹا دیں۔“ (اسی متعلق) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ وَكُلًّا آتَيْنَا حُكْمًا وَعِلْمًا﴾ [سورة الأنبياء: 79]
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين / حدیث: 4183
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لضعف أشعث - وهو ابن سَوّار - وقد أخطأ فيه إذ جعله عن ابن مسعود
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لضعف أشعث - وهو ابن سَوّار - وقد أخطأ فيه إذ جعله عن ابن مسعود، وإنما يرويه مُرَّة - وهو ابن شراحيل الهَمْداني - عن مسروق بن الأجدع التابعي، كذلك رواه سفيان الثوري وإسرائيل عن أبي إسحاق السَّبيعي.» [ترقيم الرساله 4183] [ترقيم الشركة 4160] [ترقيم العلميه 4138]