کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: حضرت یوسف علیہ السلام کی اپنے والد سے جدائی اسی برس رہی
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفّان العامِري، حدثنا الحسين بن علي الجُعْفي، حدثنا الفُضَيل بن عِيَاض، قال: كان بين فِراقِ يوسف حِجْرَ يعقوبَ إلى أن التَقَيا ثمانون سنةً (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4090 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4090 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
فضیل بن عیاض رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”حضرت یوسف علیہ السلام کے اپنے والد حضرت یعقوب علیہ السلام کی گود (سرپرستی) سے جدا ہونے اور ان کے دوبارہ ملنے کے درمیان اسی (80) سال کا عرصہ تھا۔“
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن دينار العدل، حدثنا أحمد بن نَضْر، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا زهير، عن أبي إسحاق، عن أبي عُبيدة، عن عبد الله، قال: إنما اشتُريَ يوسفُ بعشرين درهمًا، وكان أهلُه حين أَرسَلَ إليهم وهم بمصرَ ثلاثَ مئة وتسعين إنسانًا، رجالُهم أنبياءُ ونساؤهم صِدِّيقاتٌ، والله ما خرجُوا مع موسى حتى بلغوا ستَّ مئة ألف وسبعين ألفًا (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4091 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4091 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”حضرت یوسف علیہ السلام کو صرف بیس درہم کے عوض خریدا گیا تھا، اور جس وقت آپ نے مصر سے اپنے اہل خانہ کی طرف (انہیں بلانے کا) پیغام بھیجا تھا تو ان کی تعداد تین سو نوے (390) تھی۔ ان کے مرد انبیاء اور ان کی عورتیں سچی (صدیقات) تھیں۔ اور اللہ کی قسم! جب وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ (مصر سے) نکلے تو ان کی تعداد چھ لاکھ ستر ہزار تک پہنچ چکی تھی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔