کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: زمانے کو گالی دینے کی ممانعت سے متعلق احادیث
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حَدَّثَنَا محمد بن عبد السلام، حَدَّثَنَا إسحاق، أخبرنا ابن عُيينة، قال: كان أهلُ الجاهلية يقولون: إنَّ الدَّهر هو الذي يُهلِكُنا، هو الذي يُميتُنا ويُحيينا، فردَّ اللهُ عليهم قولَهم؛ قال الزُّهري عن سعيد بن المسيّب، عن أبي هريرة، عن رسول الله ﷺ قال: "يقول الله ﷿: يُؤْذيني ابن آدمَ، يَسُبُّ (2) الدهرَ، وأنا الدهرُ، أُقلِّبُ ليلَه ونهارَه، فإذا شئتُ قبضتُهما". وتلا سفيانُ هذه الآية: ﴿مَا هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوتُ وَنَحْيَا وَمَا يُهْلِكُنَا إِلَّا الدَّهْرُ﴾ [الجاثية: 24] (3). قد اتَّفق الشيخان على إخراج حديث الزُّهري هذا بغير هذه السِّياقة، وهو صحيحٌ على شرطهما.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3690 - على شرط البخاري ومسلم وأخرجاه بهذه السياقة
حافظ طلحہ بابر
امام سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہل جاہلیت کہا کرتے تھے کہ زمانہ ہی ہمیں ہلاک کرتا ہے، وہی ہمیں مارتا اور زندگی دیتا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کی تردید فرمائی؛ چنانچہ امام زہری نے سعید بن مسیب کے واسطے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل فرماتا ہے: ابن آدم مجھے تکلیف دیتا ہے، وہ زمانے کو گالی دیتا ہے حالانکہ میں ہی زمانہ (کا خالق و مالک) ہوں، میں ہی اس کی رات اور دن کو الٹتا پلٹتا ہوں، اور جب میں چاہتا ہوں تو ان دونوں کو سمیٹ لیتا ہوں۔“ اور سفیان نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿مَا هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوتُ وَنَحْيَا وَمَا يُهْلِكُنَا إِلَّا الدَّهْرُ﴾ ”یہ تو صرف ہماری دنیاوی زندگی ہے، ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور ہمیں صرف زمانہ ہی ہلاک کرتا ہے۔“ [الجاثية: 24]
شیخین نے امام زہری کی اس حدیث کو اس سیاق کے علاوہ روایت کرنے پر اتفاق کیا ہے، اور یہ ان دونوں کی شرط پر صحیح ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3732
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،إسحاق: هو ابن إبراهيم المعروف بابن راهَويه.» [ترقيم الرساله 3732] [ترقيم الشركة 3711] [ترقيم العلميه 3690]
أخبرنا أبو العبَّاس محمد بن أحمد المحبُوبي، حَدَّثَنَا سعيد بن مسعود، أخبرنا يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن إسحاق، عن أبي الزِّناد، عن الأعرج، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "قال الله ﷿: استَقرضتُ من عبدي فأَبَى أن يُقرِضَني، وسَبَّني عبدي ولا يَدري، يقول: وادَهْراهْ، وادَهْراهْ، وأنا الدَّهرُ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3691 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے فرمایا: میں نے اپنے بندے سے قرض مانگا لیکن اس نے مجھے قرض دینے سے انکار کر دیا، اور میرے بندے نے مجھے گالی دی حالانکہ وہ (اس کی حقیقت) نہیں جانتا، وہ کہتا ہے: ہائے زمانہ! ہائے زمانہ! حالانکہ میں ہی زمانہ (کا پیدا کرنے والا) ہوں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3733
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، لكن المحفوظ أنه بهذا اللفظ من رواية يزيد بن هارون عن ابن إسحاق العلاء بن عبد الرحمن بن يعقوب عن أبيه عن أبي هريرة كما سلف برقم (1540) وكما سيأتي برقم (3858)، وقد انفرد سعيد بن مسعود المروزي - على ثقته - من بين أصحاب يزيد بن هارون برواية هذا اللفظ بهذا الإسناد.» [ترقيم الرساله 3733] [ترقيم الشركة 3712] [ترقيم العلميه 3691]
أخبرني أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصَّنعْاني بمكة، حَدَّثَنَا إسحاق بن إبراهيم بن عبَّاد، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن الزُّهري، عن سعيد بن المسيّب، عن أبي هريرة أنَّ رسول الله ﷺ قال: "قال الله ﷿: يُؤذيني ابن آدم، يقول: يا خَيْبةَ الدَّهر، فلا يقولنَّ أحدُكم: يا خيبةَ الدَّهر، فإنِّي أنا الدهرُ، أُقلِّبُ ليلَه ونهارَه، فإذا شئتُ قبضتُهما" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه هكذا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3692 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے فرمایا: ابن آدم مجھے ایذا دیتا ہے، وہ کہتا ہے: ہائے زمانے کی ناکامی! پس تم میں سے کوئی شخص ہرگز ”اے زمانے کی ناکامی“ نہ کہے، کیونکہ میں ہی زمانہ (کا خالق) ہوں، میں ہی اس کی رات اور دن کو بدلتا رہتا ہوں، اور جب چاہوں گا ان دونوں کو سمیٹ لوں گا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس طرح روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3734
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،وهو في "جامع معمر" برقم (20938). وأخرجه أحمد 12/ (7683) عن عبد الرزاق، ومسلم (2246) (3) عن عبد بن حميد، عن عبد الرزاق، بهذا الإسناد والمتن. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.» [ترقيم الرساله 3734] [ترقيم الشركة 3713] [ترقيم العلميه 3692]