أخبرني أحمد بن محمد بن سَلَمة العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدَّارِمي، حدثنا يزيد بن عبد ربِّه الجُرْجُسِي وسليمان بن عبد الرحمن الدمشقي قالا: حدثنا محمد بن حَرْب، عن الزُّبَيدي، عن الزُّهْري، عن عبد الرحمن بن عبد الله بن كَعْب بن مالك، عن كَعْب بن مالك، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "يُبعَثُ الناسُ يومَ القيامة، فأكونُ أنا وأُمَّتي على تَلٍّ، ويَكسُوني ربِّي حُلَّةً خضراءَ، ثم يُؤذَنُ لي فأقولُ ما شاءَ اللهُ أن أقول، فذلك المَقامُ المحمودُ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3383 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3383 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن لوگوں کو اٹھایا جائے گا تو میں اور میری امت ایک ٹیلے پر ہوں گے، اور میرا رب مجھے سبز رنگ کا جوڑا پہنائے گا، پھر مجھے (شفاعت کی) اجازت دی جائے گی تو میں وہ کہوں گا جو اللہ چاہے گا کہ میں کہوں، پس یہی مقام محمود ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو العبَّاس محمد بن أحمد المَحبُوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، حدثنا أبو إسحاق، عن صِلَةَ بن زُفَرَ، عن حُذَيفة بن اليَمَان؛ سمعتُه يقول في قوله ﷿: ﴿عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا﴾ [الإسراء: 79]، قال: يُجمَعُ الناسُ في صعيدٍ واحدٍ، يُسمِعُهم الدَّاعي ويُنفِذُهم البَصرُ، حُفاةً عُرَاةً كما خُلِقوا، سُكوتًا لا تتكلَّمُ نفسٌ إِلَّا بإذنِه، قال: فيُنادَى محمدٌ، فيقول: "لبَّيكَ وسَعدَيك، والخيرُ في يديك، والشرُّ ليس إليك، المَهْدِيُّ مَن هَدَيتَ، وعَبدُك بين يديك، ولك وإليك، لا مَلْجأَ ولا مَنْجى إلَّا إليك، تباركتَ وتعالَيتَ، سبحانَ ربِّ البيت"؛ فذلك المَقامُ المحمودُ الذي قال اللهُ: ﴿عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا﴾ [الإسراء: 79] (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما أَخرج مسلمٌ حديث أبي مالك الأشجَعيِّ عن رِبْعِي بن حِرَاش عن حُذَيفة: "ليَخرُجنَّ من النار" فقط (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3384 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما أَخرج مسلمٌ حديث أبي مالك الأشجَعيِّ عن رِبْعِي بن حِرَاش عن حُذَيفة: "ليَخرُجنَّ من النار" فقط (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3384 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
صلہ بن زفر سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا﴾ ”امید ہے کہ آپ کا رب آپ کو مقام محمود پر فائز کرے گا۔“ [سورة الإسراء: 79] کے بارے میں فرماتے ہوئے سنا: ”لوگوں کو ایک ہی میدان میں جمع کیا جائے گا، پکارنے والے کی آواز سب کو سنائی دے گی اور نگاہ سب تک پہنچے گی، سب ننگے پاؤں اور ننگے بدن ہوں گے جیسے پیدا کیے گئے تھے، سب خاموش ہوں گے اور کوئی جان اس کی اجازت کے بغیر کلام نہیں کرے گی۔“ انہوں نے فرمایا: ”پھر محمد (ﷺ) کو پکارا جائے گا، تو آپ ﷺ فرمائیں گے: «لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ، وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ، الْمَهْدِيُّ مَنْ هَدَيْتَ، وَعَبْدُكَ بَيْنَ يَدَيْكَ، وَلَكَ وَإِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَى إِلَّا إِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، سُبْحَانَ رَبِّ الْبَيْتِ» ”میں حاضر ہوں اور تیری اطاعت کے لیے تیار ہوں، اور بھلائی تیرے ہی ہاتھوں میں ہے، اور برائی کی نسبت تیری طرف نہیں کی جا سکتی، ہدایت یافتہ وہی ہے جسے تو نے ہدایت دی، اور تیرا بندہ تیرے سامنے کھڑا ہے، میرا سب کچھ تیرے لیے اور تیری ہی طرف ہے، تیرے سوا نہ کوئی پناہ گاہ ہے اور نہ کوئی جائے نجات، تو بابرکت اور بہت بلند ہے، پاک ہے اس گھر (کعبہ) کا رب۔“ پس یہی وہ مقام محمود ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا﴾ [سورة الإسراء: 79] ۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا، البتہ امام مسلم نے ابو مالک اشجعی کی حدیث بطریق ربعی بن حراش عن حذیفہ سے صرف ”وہ ضرور جہنم سے نکالے جائیں گے“ کے الفاظ کے ساتھ روایت کی ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا، البتہ امام مسلم نے ابو مالک اشجعی کی حدیث بطریق ربعی بن حراش عن حذیفہ سے صرف ”وہ ضرور جہنم سے نکالے جائیں گے“ کے الفاظ کے ساتھ روایت کی ہے۔