فأخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل، حدثنا جدي، حدثنا إبراهيم بن حمزة الزُّبَيري، حدثنا عبد العزيز بن أبي حازم، عن كثير بن زيد، عن الوليد بن رَبَاح، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "يُجِيرُ على أُمتي أدناهُم" (2). وأما حديثُ عمرو بن العاص فمعروف في قتلِه محمدَ بن أبي بكر لما دَخَلَ عليه، قال له: محمدُ بن أبي بكر؟ قال: نعم، قال: بأمانٍ جئتَ؟ قال: لا، قال: فإني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "المسلمون تَتكافأُ دماؤُهم" الحديث (3).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کا ایک ادنیٰ شخص بھی (کسی دشمن کو) پناہ دے سکتا ہے۔“ اور سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث مشہور ہے کہ جب وہ محمد بن ابوبکر کے پاس (ان کے قتل کے وقت) داخل ہوئے تو ان سے پوچھا: کیا تم محمد بن ابوبکر ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، پوچھا: کیا تم کسی امان کے ساتھ آئے ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں، تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ”تمام مسلمانوں کے خون برابر ہیں۔“
اس حدیث کے شواہد سیدنا ابوہریرہ اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے بھی موجود ہیں۔
اس حدیث کے شواہد سیدنا ابوہریرہ اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے بھی موجود ہیں۔
أخبرنا أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا محبُوب بن موسى، حدثنا أبو إسحاق الفَزَاري، عن عمرو بن مُرّة، عن أبي البَخْتَري، عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ: "ذِمّةُ المسلمين واحدةٌ، فإن جارَتْ عليهم جائرة، فلا تخفِروها، فإنَّ لكل غادر لواءً يُعرَفُ به يومَ القيامة" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما اتفقا على ذكر الغادر فقط (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2626 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما اتفقا على ذكر الغادر فقط (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2626 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مسلمانوں کی امان (ذمہ) ایک ہی ہے، پس اگر ان میں سے کوئی ایک بھی پناہ دے دے تو اس کی وعدہ خلافی نہ کرو، کیونکہ ہر وعدہ خلاف کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہو گا جس سے وہ پہچانا جائے گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، انہوں نے صرف غدار (وعدہ خلاف) کے ذکر پر اتفاق کیا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، انہوں نے صرف غدار (وعدہ خلاف) کے ذکر پر اتفاق کیا ہے۔