أخبرنا الحسن بن يعقوب بن يوسف العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا زيد بن الحُبَاب، حدثني عبد الرحمن بن شُريح، حدثني أبو هانئ التُّجِيبيّ، قال: سمعتُ أبا علي الجَنْبي، قال: سمعتُ أبا سعيد الخُدريَّ يقول: قال رسولُ الله ﷺ: "مَن قال: رَضِيتُ بالله ربًّا، وبالإسلام دِينًا، وبمحمدٍ رسولًا، وَجَبتْ له الجنةُ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے یہ کہا: «رَضِيتُ بِاللهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا» ”میں اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد ﷺ کے رسول ہونے پر راضی ہو گیا“ تو اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد الدَّقّاق، حدثنا علي بن إبراهيم الواسِطي، حدثنا وهب بن جَرير، حدثنا شعبة. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق وأبو بكر بن حَمْدان الزاهد، قالا: حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، قال: سمعتُ أبا عَقيل هاشم بن بلال يُحدِّث عن أبي سَلَّام سابِق بن ناجيةَ، قال: كنا جُلوسًا في مسجد حِمصَ، فمرَّ رجلٌ فقالوا: هذا خَدَمَ النبيَّ ﷺ، فنهضتُ إليه فسألتُه، قلت: حدِّثني حديثًا سمعتَه من رسولِ الله ﷺ، ولم يَتداولْه الرجالُ بينكما، قال: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقولُ: "ما من عبدٍ يقولُ حين يُمسي ويُصبحُ: رضيتُ بالله ربًّا، وبالإسلام دِينًا، وبمحمد نبيًّا، إلَّا كان حقًّا على الله أن يُرضِيَه يومَ القيامةِ" (1)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
ابوسلام سابق بن ناجیہ سے روایت ہے کہ ہم حمص کی مسجد میں بیٹھے تھے کہ ایک شخص وہاں سے گزرے، لوگوں نے بتایا کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی خدمت کی ہے، میں ان کی طرف بڑھا اور ان سے پوچھا کہ مجھے ایسی حدیث سنائیں جو آپ نے خود رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو اور اسے روایت کرنے والے آپ کے اور آپ ﷺ کے درمیان زیادہ نہ ہوں، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو بندہ بھی صبح اور شام کے وقت یہ کہتا ہے: «رَضِيتُ بِاللهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا» ”میں اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد ﷺ کے نبی ہونے پر راضی ہو گیا“ تو اللہ پر یہ حق (ذمہ داری) ہے کہ وہ قیامت کے دن اسے راضی کرے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔