کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیاطین جکڑ دیے جاتے ہیں۔
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمّاك ببغداد، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا أبو بكر بن عيّاش. وحدثنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني، حدثنا أحمد بن نَجْدةَ، حدثنا سعيد بن منصور وأبو كُرَيب، قالا: حدثنا أبو بكر بن عيّاش، عن الأعمش، عن أبي صالح، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "إذا كان أولُ ليلةٍ من رمضانَ صُفِّدت الشياطينُ ومَرَدةُ الجن، وغُلِّقت أبوابُ النار، فلم يُفتَحْ منها باب، وفُتِّحتْ أبوابُ الجِنان فلم يُغلَقْ منها باب، ونادى منادٍ: يا باغيَ الخيرِ أقبِلْ، ويا باغيَ الشَّرِّ أقصِرْ، وللهِ عُتقاءُ من النار" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیطانوں اور سرکش جنوں کو بیڑیوں میں جکڑ دیا جاتا ہے، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور ان میں سے کوئی دروازہ کھلا نہیں رہتا، اور جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں رہتا، اور ایک پکارنے والا پکارتا ہے: اے خیر کے طالب! آگے بڑھ، اور اے برائی کے ارادہ رکھنے والے! رک جا، اور اللہ کی طرف سے بہت سے لوگ آگ سے آزاد کیے جاتے ہیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، قال: قُرِئ على عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي، وأنا أسمع، حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثنا شعبة، عن محمد بن أبي يعقوب، قال: سمعتُ أبا نصرٍ الهِلاليَّ يحدِّث عن رجاء بن حَيْوة، عن أبي أمامةَ، قال: قلت: يا رسول الله، دُلَّني على عمل؟ قال: "عليك بالصَّوم، فإنه لا عِدْلَ له" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ومحمد بن أبي يعقوب هذا الذي كان شعبةُ إذا حدَّث عنه يقول: حدثني سيدُ بني تميم، وأبو نصر الهلالي: هو حُميد بن هلال العَدَوي، ولا أعلمُ له راويًا عن شعبة غيرَ عبد الصمد، وهو ثقة مأمون.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ومحمد بن أبي يعقوب هذا الذي كان شعبةُ إذا حدَّث عنه يقول: حدثني سيدُ بني تميم، وأبو نصر الهلالي: هو حُميد بن هلال العَدَوي، ولا أعلمُ له راويًا عن شعبة غيرَ عبد الصمد، وهو ثقة مأمون.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے کسی ایسے عمل کی رہنمائی فرمائیں (جو مجھے جنت میں لے جائے)؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم روزے کو لازم کر لو کیونکہ اس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔“
اس حدیث کی اسناد صحیح ہیں لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ محمد بن ابی یعقوب وہ راوی ہیں کہ امام شعبہ جب ان سے روایت کرتے تو کہتے: ”مجھ سے بنو تمیم کے سردار نے حدیث بیان کی“، اور ابو نصر ہلالی دراصل حمید بن ہلال عدوی ہیں، اور میں عبد الصمد کے علاوہ کسی کو نہیں جانتا جس نے امام شعبہ سے اسے روایت کیا ہو، اور وہ ثقہ و مامون ہیں۔
اس حدیث کی اسناد صحیح ہیں لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ محمد بن ابی یعقوب وہ راوی ہیں کہ امام شعبہ جب ان سے روایت کرتے تو کہتے: ”مجھ سے بنو تمیم کے سردار نے حدیث بیان کی“، اور ابو نصر ہلالی دراصل حمید بن ہلال عدوی ہیں، اور میں عبد الصمد کے علاوہ کسی کو نہیں جانتا جس نے امام شعبہ سے اسے روایت کیا ہو، اور وہ ثقہ و مامون ہیں۔